دو ماہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 93 فیصد اضافے سے 2.29 ارب ڈالر تک جا پہنچا

287

لاہور: رواں مالی سال 2021-22ء کے دوسرے مہینے اگست میں ملک کا کرنٹ اکائونٹ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ایک ارب 47 کروڑ ڈالر خسارے میں چلا گیا۔

مالی سال کے پہلے مہینے جولائی میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 81 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا جو ماہانہ بنیادوں پر درآمدات میں نمایاں اضافے کی وجہ سے 81 فیصد بڑھ گیا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھنے کے باوجود سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر موجود ہیں۔

سٹیٹ بینک کے مطابق کرنٹ اکائونٹ کے خسارہ میں حالیہ اضافہ مقامی طور پر معاشی بحالی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں کموڈٹی کی قیمتوں میں اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سے قبل گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2 فیصد سے 3 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کر چکے ہیں تاہم اس میں ہونے والا اچانک اضافہ مالی سال کے اختتام تک سٹیٹ بینک کے اندازوں سے تجاوز کر سکتا ہے۔

مرکزی بینک کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ (جولائی، اگست) کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 93.5 فیصد بڑھ چکا ہے۔

جولائی اور اگست 2021ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ مجموعی طور پر دو ارب 29 کروڑ ڈالر خسارے میں جا چکا ہے جبکہ گزشہ مالی سال 2020-21ء کی اسی مدت کے دوران یہ 83 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سرپلس تھا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق اگست 2021ء کے دوران مصنوعات اور سروسز کی درآمدات 86 فیصد اضافہ سے چھ ارب 89 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ اگست 2020ء کے دوران درآمدات کا حجم تین ارب 70 کروڑ ڈالر تھا، اسی طرح ماہانہ بنیادوں پر درآمدات میں 12 فیصد اضافہ ہوا اور یہ چھ ارب 14 کروڑ ڈالر  سے چھ ارب 89 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں۔

اسی طرح اگست 2021ء کے دوران قومی برآمدات 55 فیصد اضافہ سے دو ارب 88 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ اگست 2020ء میں برآمدات کا حجم ایک ارب 88 کروڑ ڈالر تھا، ماہانہ بنیادوں پر جولائی 2021ء دو ارب 73 کروڑ ڈالر کی برآمدات میں 6 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔

برآمدات اور درآمدات میں وسیع خلیج کی وجہ سے اگست 2021ء میں تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کے لگ بھگ ریکارڈ کیا گیا جو ماہانہ بنیادوں پر 18 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 117 فیصد زیادہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here