’پاکستان میں گیس بحران مزید ایک سے دو سال تک جاری رہے گا‘

گیس کے ذخائر 10 فیصد سالانہ کی شرح سے ختم ہو رہے ہیں،  گھریلو صارفین کیلئے گیس ٹیرف قطر اور ایران سمیت دنیا بھر سے بہت کم ہے، ان کا 70 سے 80 فیصد بل صنعتیں دے رہی ہیں، سربراہ سوئی سدرن

176

کراچی: سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر عمران منیار نے کہا ہے کہ جب تک کہ بندرگاہ پر آر ایل این جی کے نئے ٹرمینلز نہیں لگ جاتے، موسم سرما میں گیس بحران مزید ایک سے دو سال تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورہ کے موقع پر ایک اجلاس سے خطاب میں سوئی سدرن کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر 4 ہزار ایم ایم سی ایف گیس بشمول قدرتی گیس اور آر ایل این جی استعمال ہوتی ہے جس میں سے تقریباََ 950 ایم ایم سی ایف سندھ اور بلوچستان کے مقامی وسائل سے سوئی سدرن کو فراہم کی جا رہی ہے جبکہ 150 ایم ایم سی ایف آر ایل این جی بھی دی جا رہی ہے، باقی تمام گیس سوئی ناردرن استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان میں قدرتی وسائل سے 110 ایم ایم سی ایف گیس لیتی ہے جبکہ باقی 75 فیصد گیس سندھ کے وسائل سے سسٹم میں آتی ہے لیکن گیس کے یہ ذخائر 10 فیصد سالانہ کی شرح سے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

عمران منیار نے کہا کہ سوئی سدرن پورٹ قاسم کے دو ٹرمینلز سے تقریباََ 150 سے 180 ایم ایم سی ایف آر ایل این جی لیتی ہے لیکن موسم سرما کے دوران اُن ٹرمینلز سے سپلائی 70 یا 80 ایم ایم سی ایف تک محدود ہو جاتی ہے اور بلوچستان میں گیس کی مانگ 120 ایم ایم سی ایف تک بڑھ جاتی ہے جس سے تقریباََ 195 ایم ایم سی ایف گیس کی مجموعی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس کی قلت سے نمٹنے کے لیے وزارت توانائی نے ایسا طریقہ وضع کیا ہے جس میں صارفین کی درجہ بندی کی گئی ہے، اس میں گھریلو صارفین سرفہرست ہیں، اس کے بعد برآمدی صنعتیں ہیں، اس کے بعد غیربرآمدی صنعتیں ہیں اور فہرست کے آخر میں سی این جی سٹیشنز ہیں لہٰذا سوئی سدرن موسم سرما میں لوڈ مینجمنٹ پر وزارت توانائی کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق عمل کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سردیوں میں کے الیکٹرک کو آر ایل این جی کی سپلائی مکمل طور پر صفر کر دی جاتی ہے جو گیس کی قلت کو 75 سے 80 ایم ایم سی ایف تک پورا کرنے میں مدد دیتی ہے نیز سی این جی سٹیشنز کو گیس معطلی سے مزید 20 ایم ایم سی ایف کی بچت ہوتی ہے جو کہ 195 ایم ایم سی ایف کی مجموعی قلت میں سے 95 ایم ایم سی ایف گیس کی کمی کو کم کرنے کا باعث بنتی ہے۔

عمران منیار نے نشاندہی کی کہ دیہاتوں کو گیس دینے کے لیے زبردست دبائو ہے جس میں اربوں روپے کی خطیر سرمایہ کاری، افرادی قوت اور آلات سمیت بھاری وسائل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھریلو صارفین کی جانب سے استعمال ہونے والی گیس کا 70 سے 80 فیصد صنعتیں ادا کر رہی ہے کیونکہ گھریلو صارفین کے لیے گیس ٹیرف قطر اور ایران سمیت دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے صارفین کے مقابلے میں بہت کم ہے کیونکہ یہ انڈسٹری کی جانب سے سبسڈائز ہو رہا ہے۔

قبل ازیں چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے اپنے خطاب میں نشاندہی کی کہ اولین مسئلہ کراچی کے صنعتی زون میں گیس کا کم دبائو ہے جس نے صنعتوں کو سنگین اور تباہ کن صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

زبیر موتی والا نے مزید کہا کہ دس سال قبل 1200 ایم ایم سی ایف گیس مقامی وسائل سے دستیاب تھی جب صنعتیں تقریباََ 385 ایم ایم سی ایف گیس استعمال کر رہی تھیں اور پھر تقریبا سات سال پہلے صنعتی کھپت کم ہو کر 335 ایم ایم سی ایف پر آ گئی جس میں بعد میں اضافہ ہوا لیکن آج تک صنعتی کھپت 400 ایم ایم سی ایف سے زیادہ نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ گیس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ صنعتوں نے حکومتی پالیسیوں کی بدولت اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑی تعداد میں مشینری درآمد کی ہیں لیکن ان تمام مشینیز کو گیس اور بجلی سمیت توانائی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ایک ٹویٹ میں وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا کہ ڈرائی ڈاکنگ شیڈول سے پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے اور تمام شعبوں کو گیس کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صرف 66 گھنٹے کی کچھ سیکٹرز میں گیس کی لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی تاہم ان شعبوں کو مکمل گیس بحال کر دی جائے گی۔ پاور سیکٹر میں کوئی بھی تعطل نہیں آیا، سوئی ناردرن، سوئی سدرن، پاور ڈویژن اور پٹرولیم ڈویژن کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here