اب گھر بیٹھے بھی بینک اکائونٹ کھلوایا جا سکے گا، سٹیٹ بینک نے سہولت متعارف کروا دی

اس سہولت کے ذریعے فری لانسرز، خواتین اور بیرونِ ملک سے ترسیلات زر وصول کرنے والے افراد ویب پورٹل یا موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے بینک اکاﺅنٹ کھلوا سکیں گے اور اس کیلئے دستاویزات کی کم از کم ضرورت ہو

516

کراچی: الیکٹرانک بینکاری چینلز کے استعمال میں خصوصاََ کووڈ 19 کی وبا کے دوران تیزی سے اضافے کے ساتھ بینکوں اور صارفین کی جانب سے ڈیجیٹل مالی لین دین کی طلب میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔

روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹ کی کامیابی کی بنا پر بینک دولت پاکستان نے ایک جامع کسٹمرز ڈیجیٹل آن بورڈنگ فریم ورک تشکیل دیا ہے جس سے بینکوں اور مائیکروفنانس اداروں (ایم ایف بیز) کو ڈیجیٹل چینلز جیسا کہ ویب پورٹل، موبائل ایپ، ڈیجیٹل کیوسک وغیرہ کے ذریعے صارفین کے بینک اکائونٹس بآسانی کھولنے کی سہولت ملے گی۔

اس فریم ورک کے تحت معاشرے کے تمام طبقات کی زیادہ سے زیاد مالی شمولیت یقینی بنانے کیلئے بینک اکاﺅنٹ کھولنا تیز تر اور سادہ ہو گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ قابلِ اطلاق ضوابطی تقاضوں اور بین الاقوامی معیارات کی تعمیل بھی یقینی بنائی جائے گی۔

اس فریم ورک کے تحت خاص طور پر فری لانسرز، ذاتی کاروبار کرنے والی یا بے روزگار خواتین اور بیرونِ ملک سے ترسیلات زر وصول کرنے والے افراد کو سہولت دے گا کہ وہ ڈیجیٹل طریقے سے بینک اکاﺅنٹ کھولیں جس میں دستاویزات کی کم از کم ضرورت ہو۔

یہ اقدام معاشرے کے محروم طبقوں کو باضابطہ بینکاری کے شعبے میں لائے گا جس سے سٹیٹ بینک کے مالی شمولیت کے مقاصد کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد اس فریم ورک کو حتمی صورت دی گئی ہے۔

اگرچہ عمومی اکاﺅنٹس سیونگ یا کرنٹ اکاﺅنٹ کے طور پر کھولے جا سکتے ہیں تاہم فریم ورک میں عملی حدود، جن میں ڈپازٹس یا رقم نکلوانے کی حد، رقوم منتقل کرنے کی حد وغیرہ شامل ہیں، کی بنیاد پر چار زمروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان زمروں میں آسان ڈیجیٹل اکاﺅنٹ، آسان ڈیجیٹل ریمی ٹینس اکاﺅنٹ، فری لانسرز ڈیجیٹل اکاﺅنٹ اور ڈیجیٹل اکاﺅنٹ شامل ہیں۔

پہلے زمرے کا اکاﺅنٹ کھولنا بہت آسان ہے جس کے لیے بے حد بنیادی معلومات اور کم از کم دستاویزات درکار ہوتی ہیں اور اس میں کچھ عملی حدود ہیں۔

آخری زمرہ یعنی ڈیجیٹل اکاﺅنٹ کسی فنکشنل پابندی کے بغیر ہے لیکن اس کا اکاﺅنٹ کھولنے کے لیے زیادہ معلومات درکار ہوتی ہیں، صارف بنیادی اکاﺅنٹ سے شروعات کر سکتا ہے اور بعد میں اسے اَپ گریڈ کر کے ضرورت پڑنے پر بلند سطح کے اکائونٹ کی قسم پر منتقل ہو سکتا ہے۔

سٹیٹ بینک نے فریم ورک کے تحت اس امر کو یقینی بنانے کے لیے بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام کاغذات جمع کرانے کے دن سے دو ایامِ کار کے اندر ان اکاﺅنٹس کو کھولنے یا درخواست رد کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔

مزید برآں کمرشل اور مائیکرو فنانس بینک درخواست گزاروں کو ٹریکنگ نمبر جاری کرنے کے بھی پابند ہوں گے تاکہ درخواست گزار اپنی درخواستوں کی صورت حال سے آگاہ رہ سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here