آئی ایم ایف کیساتھ بات چیت اکتوبر میں ہو گی، معاہدہ اپنی شرائط پر کریں گے: وزیر خزانہ

بڑی آٹو کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے جلد نئی آٹو پالیسی اور آٹھ نئی کمپنیاں آ رہی ہیں جس مسابقتی ماحول پیدا ہو گا اور موجودہ کمپنیوں کے نخرے ختم ہو جائیں گے، چار ماہ میں گاڑی ڈلیور نہیں ہو گی تو جرمانے عائد کریں گے، شوکت ترین کا نجی ٹی وی کو انٹرویو  

230

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے لیکن ہم اپنی شرائط پر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کریں گے۔

نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا بحران کے باعث دنیا میں زرعی پیداوار میں کمی اور فوڈ سپلائی کے تعطل کی وجہ سے عالمی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، دنیا میں چیزوں کی قیمتیں 50 فیصد تک بڑھی ہیں جبکہ ان کی بہ نسبت پاکستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران صرف 15 فیصد تک اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درآمدات کی وجہ سے مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے، ہم زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے پر کام کر رہے ہیں جس سے مہنگائی میں فرق پڑے گا۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو چیک کرنے کیلئے حکومت فارم سے لے کر ریٹیل تک قیمتوں کی ری انجنیئرنگ کروائے گی تاکہ ناجائز منافع خوری روکی جا سکے اور اس سلسلے میں اگر ہمیں مجسٹریٹ لگانے پڑے تو وہ بھی لگائیں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی آئے گی، اس کے علاوہ احساس پروگرام کے ڈیٹا کے ذریعے غریب لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے انہیں آٹے، گھی، چینی اور دالوں پر ٹارگٹڈ کیش سبسڈی دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے لوگوں کی آمدن بڑھانے کیلئے گروتھ سٹریٹجی بنائی ہے، خوش آئند بات ہے کہ ہم 5 فیصد گروتھ کی بات کر رہے تھے لیکن اس سے زیادہ گروتھ ہونے کا امکان ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے ایکسچینج ریٹ میں استحکام لائیں گے، ایکسچینج ریٹ رئیل افیکٹو ایکسچینج ریٹ کے ساتھ ہونا چاہیے، تجارتی خسارے میں ویکسین بھی شامل ہے جو فنڈڈ ہے، تجارتی خسارہ ایک ماہ میں اوپر گیا تو لوگ گھبرا گئے۔ پائیدار گروتھ کیلئے کرنٹ اکانٹ خسارے کو قابو میں رکھنا ضروری ہے، ہم ہفتہ واربنیادوں پر اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت بڑی آٹو کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے جلد ہی نئی آٹو پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے، ہم سات سے آٹھ نئی کمپنیاں مارکیٹ میں لا رہے ہیں جس سے مقابلے کا ماحول بنے گا اور ان کے نخرے بھی ٹھیک ہو جائیں گے، چار ماہ میں گاڑی ڈلیور نہیں ہو گی تو جرمانے بھی عائد کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، بنیادی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے، قیمتیں بڑھانے سے صرف کرپشن اور لاسز بڑھتے ہیں، حکومت توانائی کے شعبے کی بہتری کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہنا ملک کے مفاد میں ہے، آئی ایم ایف کو ریونیو اور توانائی پر تشویش تھی، ریونیو کلیکشن اچھی ہو رہی ہے البتہ توانائی کے شعبے کی بہتری کیلئے مزید کام کرنا پڑے گا، اکتوبر میں واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کروں گا اور ہم اپنی شرائط کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ شعبے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں، ری ٹیل کی تجارت 18 کھرب ہے اور ہمارے نیٹ پر صرف 3 کھرب ہے، ری ٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اہم اقدامات کر رہے ہیں، ہم سیلز ٹیکس 17 فیصد سے 10 فیصد پر لے آئے ہیں، 15 ملین ٹیکس چوروں کا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے، ٹیکس چوری پکڑنے کیلئے ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی بڑھتی ہے، عالمی سطح کے مطابق پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کے حق میں نہیں ہوں، اس سلسلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی سہولت حاصل کرنے کیلئے بات کر رہے ہیں، جلد اچھی خبر ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here