’رواں سال ایف بی آر ڈیٹا سینٹر سمیت پاکستانی ویب سائیٹس پر 10 لاکھ سائبر حملے ہوئے‘

ڈیٹا سنٹر پر سائبر حملے کے پیش نظر ایف بی آر کی جانب سے پبلک پروکیورمنٹ رولز کے تحت آپریشنل ایمرجنسی کا نفاذ، انکوائری مکمل، ڈیٹا محفوظ بنانے کیلئے پروفیشنل کمپنی کی خدمات لی گئی ہیں، فواد چوہدری کی میڈیا کو بریفنگ

108

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ رواں سال ایف بی آر ڈیٹا سینٹر پر حملے سمیت پاکستانی ویب سائیٹس پر تقریباََ دس لاکھ سائبر حملے ہو چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بتایا کہ 14 اگست 2021ء کو ایف بی آر کے ڈیٹا سنٹر پر سائبر حملے کے پیش نظر ایف بی آر حکام کی جانب سے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004ء کے تحت آپریشنل ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے تاکہ ڈیٹا سنٹر کی حفاظت کے لئے ہنگامی بنیادوں ضروری اقدامات پر کئے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ان اقدامات کی توثیق کر دی، 14 اگست کو ایف بی آر کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی، اس کی انکوائری مکمل ہو گئی ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایف بی آر کا ڈیٹا محفوظ رہا، ہیکرز اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے، ایک پروفیشنل کمپنی کو ہائر کیا جو ڈیٹا پروٹیکشن کو یقینی بنا رہی ہے، اس کے لئے رولز میں نرمی کی گئی ہے تاکہ وہ کمپنی کی ہائرنگ کا عمل جلد مکمل ہو سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے کابینہ کو بتایا کہ اس سال پاکستانی ویب سائیٹس پر تقریباََ دس لاکھ سائبر حملے ہو چکے ہیں، این ٹی سی نے ان تمام حملوں کو ناکام بنایا، پاکستان کے اندر سائبر سیکورٹی کا ایک جامع فریم ورک موجود ہے، ہم اسے مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ برطانوی اخبار گارڈین نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ ہندوستان نے اسرائیلی کمپنی کے ساتھ مل کر پاکستان کے اہم موبائل فونز کا ڈیٹا ہیک کرنے کی کوشش کی جن میں وزیراعظم کا نمبر بھی شامل تھا۔ ہم نے اس کے لئے ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی، ہم جامع ڈیٹا پروٹیکشن پر کام کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here