فیس بک کی جانب سے چند بااثر صارفین کو قوانین سے استثنیٰ دیے جانے کا انکشاف

191

واشنگٹن: فیس بک کا دعویٰ ہے کہ اس کے کمیونٹی قوانین کا اطلاق یوں تو تمام صارفین پر ہوتا ہے لیکن ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ چند مشہور شخصیات، سیاست دانوں اور دیگر ہائی پروفائل صارفین کو اس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

فیس بک کے اس کوالٹی کنٹرول میکانزم کو “کراس چیک” یا “ایکس چیک” کا نام دیا گیا ہے جس کے ذریعے بااثر صارفین کی پوسٹس کے لیے قواعد سے استثنیٰ دیا جاتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام لاکھوں ایلیٹ صارفین کو اُن قوانین سے بچاتا ہے جنہیں فیس بک دیگر صارفین پر یکساں طور پر لاگو کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک کا ایک خفیہ اندرونی نظام ہے جو 58 لاکھ صارفین پر سوشل نیٹ ورک کے اصولوں کا اطلاق نہیں ہونے دیتا۔  فیس بک کے ایک سابق ملازم نے بھی ایک میمو میں بتایا کہ کمپنی کی جانب سے ‘طاقت ور کرداروں’ کو استثنیٰ دیا جاتا ہے۔

تاہم فیس بک کے ترجمان اینڈی سٹون نے ٹویٹس کی ایک سیریز میں اس پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنی کو معلوم ہے کہ اس کے قوانین کا نفاذ ٹھیک نہیں ہے۔

جریدے کی رپورٹ کے جواب میں سٹون نے ٹویٹ کیا کہ انصاف کے دو نظام نہیں بلکہ یہ غلطیوں سے بچنے کی کوشش ہے۔

مذکورہ آرٹیکل میں ہائی پروفائل لوگوں کی فیس بک پوسٹس کی مثالیں دی گئی ہیں جن میں برازیلئن فٹ بالر نیمار نے ان پر عصمت دری کا الزام لگانے والی خاتون کی نازیبا تصاویر شیئر کیں جنہیں بعد میں فیس بک کی جانب سے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

دیگر بااثر شخصیات جن کی پوسٹس کو استثنیٰ حاصل ہے ان میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی سنیٹر ایلزبتھ وارن اور دیگر شامل ہیں۔

فیس بک کے کچھ ملازمین کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بااثر صارفین کو ایکس چیک یا کراس چیک کا حصہ بنا سکتے ہیں جس کی وجہ سے سسٹم کیلئے مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ان کی پوسٹس پر کارروائی کرنا ممکن نہیں رہتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مواد کے حوالے سے پابندی بارے یہ دوہرا معیار فیس بک کی جانب سے آزاد بورڈ کو دی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہے۔

اے ایف پی کی انکوائری کے جواب میں بورڈ کے ترجمان جان ٹیلر نے کہا کہ نگرانی بورڈ نے کئی بار فیس بک کے مواد کی پابندی کے عمل میں شفافیت کے فقدان خاص طور پر ہائی پروفائل اکاﺅنٹس بارے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here