’نصف صدی میں قدرتی آفات سے 20 لاکھ سے زائد ہلاکتیں، 3.64 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا‘

1970ء سے 2019ء کے درمیان 11 ہزار قدرتی آفات میں 91 فیصد اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں، ایشیا سب سے زیادہ متاثر رہا، پونے 10 لاکھ جانوں کا ضیاع اور 2  کھرب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا

215
انڈونیشیا میں 2018ء میں آنے والے سونامی کے بعد تباہی کی تصویر (گوگل)

جنیوا: عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق گزشتہ نصف صدی میں آب و ہوا میں تبدیلیوں اور شدید موسم کی وجہ سے قدرتی آفات میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے جن سے کم ترقی یافتہ ممالک کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے سیکرٹری جنرل نے یونائیٹڈ نیشن آفس فار ڈیزاسٹر رِسک ریڈکشن (یو این ڈی ڈی آر) کی 1970ء اور 2019ء کے درمیان قدرتی آفات کے واقعات پر کی گئی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس عرصہ میں کل 11 ہزار قدرتی آفات رپورٹ کی گئیں جن سے انسانیت کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصہ میں تباہ کن زلزلوں، سیلابوں، لینڈ سلائڈنگ اور بارشوں کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ عالمی معیشت کو 3.64 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا، ان قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں 91 فیصد ترقی پزیر ممالک میں واقع ہوئیں۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ موسم میں شدت کے باوجود دنیا میں قدرتی آفات کے متعلق خبردار کرنے والے نظام میں بہتری اور آفات پر قابو پانے والی کوششوں میں اضافے کی بدولت ان سے ہونے والے جانی نقصان میں واضح کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں 1970ء کے عشرے میں 50 ہزار لوگ مارے گئے تھے وہاں 2010ء کے عشرے میں اموات کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی اور اس دوران 20 ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ قحط سالی سب سے زیادہ جان لیوا آفت ثابت ہوئی جس کے باعث ساڑھے 6 لاکھ لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، طوفانوں سے 5 لاکھ 77 ہزار 232 اموات ہوئیں، سیلابوں کی وجہ سے 58 ہزار 700 جبک شدید درجہ حرارت کی وجہ سے 55 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے سیکرٹری جنرل نے مزید بتایا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں آنے والے طوفان کل نقصانات میں سے 35 فیصد نقصان کا موجب بنے اور سب سے زیادہ نقصان امریکا میں ہونے والے سمندری طوفان ہاروی نے 96.9 ارب ڈالر کا کیا۔

اس کے علاوہ آفات نے براعظم ایشیا میں سب سے زیادہ تباہی مچائی جہاں 3 ہزار 454 واقعات ہوئے جن میں 9 لاکھ 75 ہزار 622 جانوں کا ضیاع ہوا اور ایشیائی معیشت کو2  کھرب ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی، ماحولیاتی اور پانی سے متعلقہ آفات میں سے 36 فیصد ایشیائی ممالک میں وقوع پذیر ہوتی ہیں، ان آفات میں 45 فیصد سیلاب اور 36 فیصد طوفان شامل ہیں۔

ایشیا میں سب سے زیادہ جانی نقصان طوفانون میں 72 فیصد رہا جبکہ سیلابوں کے نتیجے میں ہونے والے اقتصادی نقصان کی شرح 57 فیصد رہی۔

اسی طرح براعظم افریقہ میں قحط سالی سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئی اور افریقہ میں تمام اموات میں سے 95 فیصد قحط کی وجہ سے واقع ہوئیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here