کیا بھارت میں ایٹمی مواد کی بلیک مارکیٹ موجود ہے؟

928

نئی دہلی: بھارت میں انتہائی خطرناک اور تابکار جوہری مواد کی آزادانہ خریدوفروخت کا تیسرا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

بھارت کی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے رواں ہفتے 57 کروڑ 30 لاکھ ڈالر (41 ارب 82 کروڑ 19 لاکھ بھارتی روپے) سے زائد مالیت کا انتہائی تابکار مواد کیلیفورنیم (Californium) رکھنے پر دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت سی آئی ڈی افسران نے تابکار مواد کے چار ٹکڑوں کے ساتھ دو افراد کو کولکتہ کے سبھاش چندرا بوس ائیرپورٹ سے گرفتار کیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ بھارت میں انتہائی تابکار مواد کی غیر قانونی خریدو فروخت کا تیسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل میڈیا نے بھارت میں مئی اور جون 2021ء میں دو الگ الگ واقعات میں 7 کلو گرام اور 6 کلو گرام یورینیم ضبط کئے جانے کی خبریں دی تھیں۔

کیلیفورنیم کیا ہے؟

واضح رہے کہ کیلیفورنیم 252 نایاب لیکن انتہائی تابکار عنصر ہے، نیوٹرونز کی بھاری مقدار خارج کرنے کی وجہ سے ایٹمی ری ایکٹرز کو سٹارٹ کرنے اور ایٹم بم بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ عنصر اپنے استعمال کی وجہ سے بے حد قیمتی بھی تصور کیا جاتا ہے اور اس کے ایک گرام کی قیمت تقریباََ 27 ملین ڈالر ہے۔

پاکستان کا ردعمل

بار بار سامنے آنے والے ان واقعات نے بھارت میں ایٹمی اور دیگر تابکار مواد کے تحفظ ، سکیورٹی اور ملک میں اس طرح کے مواد کے لئے بلیک مارکیٹ کی ممکنہ موجودگی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک بیان میں تابکار مواد کی چوری کے بارے میں خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے بھارت میں اس طرح کا ایک اور واقعہ سامنے آنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ بین الاقوامی برادری کے لئے سخت تشویش کا معاملہ ہے کہ کیلیفورنیم جیسا ایک انتہائی نایاب تابکار مواد بھی چوری ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ واقعات میں گرفتار افراد نے واضح طور پر تابکار مواد بھارت کے اندر سے خرید کر حاصل کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک بار پھر اس بات پر زور دیتا ہے کہ بھارت میں ان واقعات کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کی روک تھام کے لئے بھارتی حکومت کو ٹھوس اقدامات پر مجبور کیا جائے۔

کیا کوکلتہ ائیرپورٹ پر ملنے والا مواد کیلیفورنیم تھا؟

گزشتہ بدھ کو بھارتی حکام نے کوکلتہ ائیرپورٹ کے نزدیک دو افراد کو مبینہ تابکار مواد کے چار ٹکڑوں سمیت گرفتار کیا تھا تو اندرون و بیرون ملک اس حوالے سے کافی تشویش کا اظہار کیا گیا اور بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ سی آئی ڈی حکام نے مذکورہ مواد کے ٹکڑے بھابھا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھیجے جہاں ان کا تجزیہ کیا گیا اور انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے ملنے والا مواد کیلیفورنیم یا اریڈیئم نہیں بلکہ عام پتھر کے ٹکڑے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here