چار پاکستانی کمپنیوں کے کنسورشیم کو ابوظہبی میں تیل و گیس کی تلاش کے حقوق مل گئے

کنسورشیم میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ، ماڑی پٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی اور گورنمنٹ ہولڈنگز شامل، ایکسپلوریشن کے مرحلے میں کنسورشیم 100 فیصد شئیرز اپنے پاس رکھے گا جبکہ پیداواری مرحلے میں 60 فیصد شئیرز ابوظہبی کے پاس چلے جائیں گے

443

ابوظہبی: چار پاکستانی کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیم نے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کے زیر اہتمام ابوظہبی کے آف شور بلاک 5 میں تیل و گیس کی تلاش کے حقوق حاصل کر لیے۔

اس کنسورشیم میں وزارت توانائی کے ماتحت پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، ماڑی پٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل)، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) شامل ہیں جبکہ کنسورشیم کی قیادت پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کر رہی ہے۔

معاہدے کے مطابق پہلی بار پاکستانی کمپنیاں ابوظہبی میں تیل و گیس کی دریافت کے لیے سرمایہ کاری کریں گی جو ادنوک کے ساتھ پاکستانی توانائی کمپنیوں کی پہلی شراکت داری ہے، یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے مابین گہرے دو طرفہ تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر اور پی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر معین رضا خان نے دستخط کیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے 50 سالہ تعلقات میں توانائی کے شعبہ میں تعاون کا ایک نیا باب ہے، یہ ایک اہم پلیٹ فارم کی نمائندگی کرتا ہے جس پر ہم پاکستان کی انرجی سکیورٹی کیلئے تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک اور معاشی تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کی شرائط کے تحت کنسورشیم ایکسپلوریشن کے مرحلے میں 100 فیصد شئیر رکھے گا جس میں ایک ارب 12 کروڑ درہم (30 کروڑ 47 لاکھ امریکی ڈالر) تک کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

مذکورہ ایکسپلوریشن بلاک 6 ہزار 223 مربع کلومیٹر کے علاقے پر محیط ہے اور ابوظہبی شہر سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

اس موقع پر پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سی ای او معین رضا خان نے کہا کہ ’پی پی ایل کی زیر قیادت کنسورشیم کو ابو ظہبی کے آف شور بلاک 5 میں تیل و گیس کی تلاش کے حقوق ملنے پر خوشی ہے، یہ پیشرفت نہ صرف پاکستان اور ابوظہبی کے لیے دو طرفہ توانائی میں تعاون اور اقتصادی روابط میں اہمیت کی حامل ہے بلکہ اس سے ادنوک کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کا موقع بھی میسرآئے گا۔‘

معین رضا خان کا مزید کہان تھا کہ ایکسپلوریشن مرحلے کے دوران تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کے بعد کنسورشیم کو تجارتی پیمانے پر پیدوار اور ترقی دینے کا حق حاصل ہو گا، پروڈکشن مرحلے میں ادنوک کے پاس 60 فیصد شئیرز رکھنے کا آپشن  ہو گا، ذخائر کی دریافت شروع ہونے کے بعد پیداواری دورانیہ 35 سال پر محیط ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے بھی ایک ٹویٹ کرکے تصدیق کی ہے کہ چار پاکستانی کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیم نے ابوظہبی میں آف شور بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کے حقوق حاصل کر لئے ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ ’یہ انتہائی فخر کی بات ہے کہ وزارت توانائی کے ماتحت چار پاکستانی کمپنیوں کے کنسورشیم کو ابو ظہبی میں ایک آف شور بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کے حقوق دیئے گئے ہیں۔ مذکورہ بلاک میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر موجود ہونے کا امکان ہیں، ہم ان کمپنیوں کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔’

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here