’روشن اپنا گھر سکیم‘ کیا ہے اور اوورسیز پاکستانی اس سے کس طرح استفادہ کر سکتے ہیں؟

90 لاکھ تارکین وطن کے پاس پاکستان کی جی ڈی پی کے برابر پیسہ موجود ہے، بدقسمتی سے انہیں وہ ماحول نہیں دے سکے، لیکن اب سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کا ’’روشن اپنا گھر‘‘ سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب

740
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان روشن اپنا گھر سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے 90 لاکھ پاکستانی تارکین وطن کو قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ’’روشن اپنا گھر سکیم‘‘ کا آغاز کر دیا۔

جمعہ کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے ”روشن اپنا گھر پروگرام” کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر اور اُن کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ ایک طویل عرصہ مختلف ممالک میں رہے ہیں، اس لئے وہ پاکستانی تارکین وطن کو سب سے زیادہ جانتے ہیں، یہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں تاہم بدقسمتی سے ہم نے اپنے اس قیمتی اثاثہ سے بہت کم فائدہ اٹھایا، ہم ان کی جانب سے اپنے خاندانوں کی کفالت کیلئے بھجوائی گئی ترسیلات زر تک ہی محدود رہے۔

عمران خان نے کہا کہ 90 لاکھ پاکستانی تارکین وطن کے پاس پاکستان کی جی ڈی پی کے برابر پیسہ موجود ہے، ہماری حکومت بنی تو ہم نے اس پر غور کیا کہ اس پیسے کو کیسے استعمال میں لائیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے تھے کہ ملک میں سرمایہ کاری آئے گی اور ہونہار پاکستانیوں کو وطن واپس لائیں گے، لیکن بدقسمتی سے انہیں وہ ماحول نہیں دے سکے، ایک دم تبدیلی مشکل ہوتی ہے، ہم آہستہ آہستہ کوشش کر رہے ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے ملک میں مراعات دے سکیں تاہم اس کیلئے وقت درکار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے ملک میں سرمایہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بدعنوانی ہے، وہ بدعنوانی سے پاک معاشروں میں کام کرنے کے عادی ہونے کے بعد بدعنوان معاشرے میں کام نہیں کر سکتے، کئی پاکستانی یہاں آئے تاہم وہ بددل ہو کر واپس چلے گئے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم اس نظام کی بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں، سسٹم میں بہتری لا کر سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کریں گے، ہم نے ان کیلئے کاروبار میں آسانیاں پیدا کی ہیں، توقع ہے کہ ہمارے اقدامات سے بہتری آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ محنت کش طبقہ سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں گھر بنائیں تاہم ان کے راستے میں قبضہ گروپ بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں،

انہوں نے کہا کہ روشن اپنا گھر پروگرام کے تحت پہلی بار بینک گارنٹی دے رہے ہیں جس سے تارکین وطن کے اندر پایا جانے والا قبضہ مافیا کا خوف ختم ہو گا جبکہ زائد پلاٹس کے نام پر جعل سازی سے بھی محفوظ رہیں گے، وہ بینک سے قرضے بھی لے سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک گیم چینجر منصوبہ ہے، اس سے ملک میں ڈالر آئیں گے، پاکستان کو ڈالروں کی زیادہ ضرورت ہے، اس سے برآمدات اور درآمدات میں پایا جانے والا فرق بھی یہ تارکین وطن ختم کر سکتے ہیں جبکہ کرنٹ اکائونٹ کے مسائل کو بھی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم اس راستے پر چل پڑے ہیں کہ ان 90 لاکھ تارکین وطن کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال میں لا سکتے ہیں اس سے پاکستان کی ترقی کی شرح میں پائیداری آئے گی، ہم پاکستان کے بیرون ملک مقیم ہونہار لوگوں کیلئے اپنے ملک کو پرکشش بنائیں گے تاکہ وہ باہر سے اپنی دولت پاکستان لا سکیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ انہیں یاد ہے کہ 2009ء میں جب ملک میں ڈالر نہیں تھے تو ان پر خاصا دبائو تھا اور انہوں نے اُس وقت سمندر پار پاکستانیوں سے رابطے کا فیصلہ کیا تھا۔

شوکت ترین نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر اب 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، بیرون ملک پاکستانی ماہرین ہمارا ہدف ہیں، انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ اور روشن گھر سکیم میں سٹیٹ بینک نے لیڈرشپ دکھائی ہے اور جس طریقے سے حکمت عملی کا نفاذ کیا گیا ہے وہ قابل تعریف ہے کیونکہ اس میں ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ترین تھا۔ اس حوالہ سے بڑے فیصلے کئے گئے، میں سٹیٹ بینک اور گورنر کو سیلوٹ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 29 ارب ڈالر کی ترسیلات زر محفوظ ہیں، کیونکہ اب جو اوررسیز پاکستانی روشن گھرسکیم میں گھر بنائیں گے وہ ماہانہ اقساط بھی جمع کراتے رہیں گے۔ ان سکیموں میں رئیل سٹیٹ والے تعاون کر رہے ہیں، لوگوں کے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہو گا۔ رئیل سٹیٹ میں بہت بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔

انہوں نے کہاکہ اس سال اس سکیم کیلئے ڈھائی سے تین ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور وزارت خزانہ اس میں معاونت فراہم کرے گی۔

روشن اپنا گھر سکیم کیا ہے؟

اس سکیم کے تحت غیر مقیم پاکستانی اب روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹ کے ذریعے پاکستان میں مکان خرید سکتے ہیں یا مکان کے لیے قرضہ حاصل کر سکتے ہیں۔

روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس پاکستان میں بینکاری، ادائیگی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیاں انجام دینے کے خواہاں لاکھوں غیر مقیم پاکستانیوں کو بینکاری کے اختراعی راستے فراہم کرتے ہیں۔

ان اقدامات کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کو کئی مالی مصنوعات فراہم کی گئی ہیں جن میں سرمایہ کاری کے لئے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ، کار خریدنے کیلئے ’روشن اپنی کار‘ اور فلاحی اداروں کو عطیات دینے کے لیے روشن سماجی خدمات شامل ہیں۔

روشن اپنا گھر سکیم بھی اسی سلسلے کی نئی طرز کی بینکنگ پراڈکٹ ہے، غیر مقیم پاکستانی اب بیرونِ ملک بیٹھے ہوئے اور کسی بھی بینک کی برانچ میں جائے بغیر پاکستان میں مکان خرید سکتے ہیں یا مکان کے لیے آسانی سے قرضہ حاصل کر سکتے ہیں۔

وہ بینک کے پہلے سے منظور شدہ منصوبوں میں سے مکان خرید سکتے ہیں یا پھر قرضہ حاصل کر سکتے ہیں یا کوئی بھی جائیداد لے سکتے ہیں۔

مقیم پاکستانی جائیداد کی فروخت کی صورت میں سرمائے کے طور پر لگائی ہوئی اصل رقم کسی اجازت کے بغیر بیرونِ ملک منگوا سکتے ہیں۔ اس سکیم میں شرحِ منافع بھی پرکشش ہے۔ قرضہ روایتی اور شریعت سے ہم آہنگ طریقوں دونوں میں دستیاب ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here