پیداوار بڑھنے کے باوجود سیمنٹ مہنگا، گھر بنانا مشکل، تعمیراتی سیکٹر بری طرح متاثر

مالی سال 2020-21ء میں سیمنٹ کی مجموعی پیداوار 4 کروڑ 98 لاکھ ٹن، فروخت 57.433 ملین ٹن اور برآمدات کا حجم 1.494 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا

436

اسلام آباد: ملک میں سیمنٹ کی پیداوار میں 27.31 فیصد، فروخت میں 20 فیصد اور برآمدات میں 18.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے جس سے تعمیراتی شعبے کو نقصان پہنچے گا۔

پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کے مطابق مالی سال 2020-21ء کے دوران ملک بھر میں قائم سیمنٹ پلانٹس سے مجموعی پیداوار کا حجم 4 کروڑ 98 لاکھ ٹن ریکارڈ کیا گیا جو پیوستہ مالی سال 2019-20ء میں 3 کروڑ 91 لاکھ 21 ہزار ٹن پیداوار کے مقابلہ میں 27.31 فیصد زیادہ ہے۔

پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق جون 2021ء کے دوران ملک میں 46 لاکھ 66 ہزار ٹن سیمنٹ کی پیداوار ہوئی جو جون 2020ء کی 35 لاکھ 23 ہزار ٹن پیداوار کے مقابلہ میں 32.44 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وبا کے باوجود لکی سیمنٹ کو 28.2 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع

دوسری جانب آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( اے پی سی ایم اے) کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم اور سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے گزشتہ مالی سال 2020-21ء میں سیمنٹ کی مجموعی فروخت 57.433 ملین ٹن تک بڑھ گئی۔

رپورٹ کے مطابق پیوستہ مالی سال 20-2019ء کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت کا حجم 47.812 ملین ٹن رہا تھا، اس طرح سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 9.621 ملین ٹن یعنی 20 فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق اس دوران سیمنٹ کی مقامی فروخت میں 20.40 فیصد اضافہ سے سیمنٹ کی مقامی فروخت کا حجم 39.965 ملین ٹن کے مقابلہ میں 48.119 ملین ٹن تک بڑھ گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق جون 2020ء کے مقابلہ میں جون 2021ء کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 12.73 فیصد جبکہ مقامی فروخت میں 21.74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مالی سال 2019-20ء کے مقابلہ میں مالی سال 2020-21ء کے دوران سیمنٹ انڈسٹری کی برآمدات میں بھی 18.69 فیصد اضافہ ہوا۔ پیوستہ مالی سال کے دوران 7.847 ملین ٹن سیمنٹ برآمد کیا گیا تھا تاہم گزشتہ مالی سال 2020-21ء میں سیمنٹ کی برآمدات کا حجم 1.494 ملین ٹن یعنی 18.69 فیصد اضافہ سے 9.314 ملین تک پہنچ گیا۔

ادھر حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے کو دیے گئے رعایتی پیکج کے باوجود مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے تعمیراتی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور تعمیراتی اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

لکی سیمنٹ کی ڈیلرشپ رکھنے والے ایک ڈیلر نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ گزشتہ سال سیمنٹ کی فی بوری قیمت 510 روپے تھی جو اَب بڑھ کر 650 روپے تک پہنچ چکی ہے اور ایک سال کے دوران تقریباََ 140 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here