اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر بھیجنے کیلئے مزید پرکشش مراعات دینے کا فیصلہ

نیشنل ریمیٹینس لائیلٹی پروگرام (این آر ایل پی) کی موبائل ایپ سے ہر ٹرانزیکشن کے بدلے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کو مخصوص طریقہ کار کے تحت خصوصی مراعات دی جائیں گی، ایپلی کیشن اکتوبر 2021ء میں لانچ کر دی جائے گی

673

اسلام آباد: سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے رقوم وطن بھجوانے کے عمل میں سہولت کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے این آر ایل پی موبائل ایپلی کیشن اکتوبر 2021ء میں متعارف کروا دی جائے گی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس کابینہ ڈویژن میں منعقد ہوا۔ فنانس ڈویژن سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے نیشنل ریمی ٹینس لائیلٹی پروگرام (این آر ایل پی) کے حوالہ سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر قومی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں، حکومت اور سٹیٹ بینک مثبت اقدامات کے باعث سمندر پار پاکستانیوں کو مراعات کی پیشکش سے قانونی ذرائع سے رقوم کی پاکستان منتقلی میں اضافہ ہوا ہے۔

سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے دوران ترسیلات زر 29.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک بڑھ گئیں جو پاکستانی معیشت پر دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

مسلسل چودھویں ماہ ترسیلات زر 2 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا ریکارڈ برقرار

روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کا اہم سنگ عبور، ترسیلات زر ڈیڑھ ارب ڈالر سے متجاوز

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ کی شرح کو برقرار رکھنے کیلئے سٹیٹ بینک موبائل ایپلی کیشن متعارف کرا رہا ہے، این آر ایل پی ایپلی کیشن سے ہر ٹرانزیکشن کے بدلے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کو طریقہ کار کے تحت مراعات دی جائیں گی۔ مجوزہ ایپلی کیشن اکتوبر 2021ء میں لانچ کر دی جائے گی۔

تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد ای سی سی نے این آر ایل پی کے سٹرکچر اور اس کے مالی اثرات کی منظوری دے دی تاکہ مراعات کی فراہمی سے قانونی ذرائع سے رقوم کی ترسیل بڑھائی جا سکے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے ہدایت کی کہ مذکورہ ایپ کی لانچنگ سے قبل تمام خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ این آر ایل پی کی ورکنگ کو مربوط بنایا جائے۔

یاد رہے کہ نئے مالی سال 2021-22ء کے پہلے ماہ (جولائی) کے دوران سالانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 2 فیصد کمی ہوئی تاہم مسلسل چودھویں ماہ 2 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا ریکارڈ برقرار رہا۔

ایس بی پی کے مطابق جولائی 2021ء کے دوران ترسیلات زر کا مجموعی حجم 2 ارب 71 کروڑ ڈالر رہا، سعودی عرب میں مقیم کارکنوں نے سب سے زیادہ 64 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر وطن ارسال کیں۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات سے 53 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور امریکہ سے 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔

حکومت کی جانب سے قانونی اور بینکنگ ذرائع سے ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کیلئے سہولیات اور اقدامات کے نتیجہ میں بیرون ملک کارکنوں کی جانب سے رقوم بھیجنے میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے اختتام پر ترسیلات زر کا حجم 29.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here