مسلسل چودھویں ماہ ترسیلات زر 2 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا ریکارڈ برقرار

نئے مالی سال 2021-22ء کے پہلے مہینے (جولائی) میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ 64 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، یو اے ای سے 53 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور امریکہ سے 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، سٹیٹ بینک

504

کراچی: رواں مالی سال 2021-22ء کے پہلے مہینے (جولائی) کے دوران بیرون ملک مقیم کارکنوں کی جانب سے ترسیلات زر دو ارب ڈالر سے زائد رہنے کا ریکارڈ مسلسل چودہویں مہینے بھی برقرار رہا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ جولائی کے مہینے میں آنے والی ترسیلات زر کی دوسری بلند ترین سطح ہے، نمو کے لحاظ سے ترسیلات زر پچھلے ماہ (جون) کے مقابلے میں 0.7 فیصد بڑھیں اور جولائی 2020ء کے مقابلے میں 2.1 فیصد کم ہوئیں۔

ایس بی پی کے اعلامیہ کے مطابق ترسیلات زر کی یہ معمولی کمی عیدالاضحیٰ کی وجہ سے آئی جس کے باعث جولائی 2021ء میں جولائی 2020ء کے مقابلے میں کاروباری ایام کم رہے۔

یہ بھی پڑھیے: ترسیلات زر 27 فیصد اضافے سے 29.4 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئیں

جولائی 2021ء کے دوران ترسیلات زر کا مجموعی حجم 2 ارب 71 کروڑ ڈالر رہا، سعودی عرب میں مقیم کارکنوں نے سب سے زیادہ 64 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر وطن ارسال کیں۔

ایس بی پی کے مطابق متحدہ عرب امارات سے 53 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور امریکہ سے 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔

حکومت کی جانب سے قانونی اور بینکنگ ذرائع سے ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کیلئے سہولیات اور اقدامات کے نتیجہ میں بیرون ملک کارکنوں کی جانب سے رقوم بھیجنے میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے اختتام پر ترسیلات زر کا حجم 29.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

دوسری جانب سٹیٹ بینک کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کیلئے متعارف کرائے گئے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں جمع کرائی گئی ترسیلات زر کا حجم بھی ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ وسط جون تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں رقوم ڈیڑھ ارب ڈالر سے بڑھ گئیں جبکہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here