حکومت کا 1796 میگاواٹ کے پاور پلانٹس بند کرنے کا فیصلہ

سرکاری شعبے کے پاور پلانٹس کی جب ضرورت پڑتی ہے تو وہ چلتے نہیں، اس لیے بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے، سٹاف کو متعلقہ ڈسکوز میں ضم کر دیا جائے گا، وفاقی وزیر حماد اظہر کا قومی اسمبلی میں جواب

236

اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے فیصلے کے مطابق سرکاری شعبے کے 1796 میگاواٹ کے پاور پلانٹس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سوموار کو قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران شیخ فیاض الدین کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے جواب دیا کہ سرکاری شعبے کے پاور پلانٹس کی جب ضرورت پڑتی ہے تو وہ چلتے نہیں، ایسے پلانٹس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کے سٹاف کو متعلقہ ڈسکوز میں ضم کیا جائے گا۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جن پاور پلانٹس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں تھرمل پاور سٹیشن جامشورو، جی ٹی پی ایس کوٹری، ٹی پی ایس کوئٹہ، ٹی پی ایس مظفرگڑھ شامل ہیں۔

حماد نے مزید کہا کہ ایس پی ایس فیصل آباد، جی ٹی پی ایس فیصل آباد، ایف بی سی لاکھڑا، این جی پی ایس پیراں غائب، ملتان اور جی ٹی پی ایس کوٹری کو بھی بند کیا جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی پی ایس جامشورو جی ای بلاک، ٹی پی ایس مظفرگڑھ  سیمنز بلاک اور جی ٹی پی ایس فیصل آباد سمیت دیگر پلانٹس کو برقرار اور فعال رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مسرت رفیق مہیسڑ کے اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ تین ہفتوں سے ملک بھر میں اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ لائن لاسز والے علاقوں میں ہو رہی ہے۔

ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بجلی کی نئی ترسیلی لائنز پر اوورلوڈنگ کا بھی مسئلہ ہے، وزارت بجلی کے سابق وزیر عمر ایوب کے دور میں ترسیلی لائنوں پر چار ہزار میگاواٹ کا لوڈ بڑھانے کے لئے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا جبکہ آئندہ چند ماہ میں مزید تین ہزار میگاواٹ کا لوڈ ترسیلی لائنوں پر بڑھایا جائے گا۔

وقفہ سوالات کے دوران مولانا عبدالشکور کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ لکی مروت میں گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے، اگر وہاں پر کوئی ماحولیاتی خطرہ پیدا ہوا تو اس کا بھی جائزہ لیا جائے گا، اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر بھی توجہ دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کی کارکردگی کے حوالے سے مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاور ڈویژن کی گزشتہ سال کی پرفارمنس بک شائع ہو چکی ہے، محکمانہ کارکردگی بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ڈسکوز کی نجکاری سمیت اصلاحات اور ری سٹرکچرنگ کی جارہی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے مختلف علاقوں میں گیس کی پائپ لائنیں بچھا دی ہیں مگر گیس نہیں تھی اور اب لوگ گیس فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب حکومت نے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر کنکشن دینے شروع کئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here