کم قیمت گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت کی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی لانے کی تیاری

نئی آٹو پالیسی کا مقصد پاکستان کو مقامی مارکیٹ کے لئے آٹو پارٹس اور گاڑیوں کی مسابقتی تیاری کے ساتھ ساتھ برآمدات کا مرکز بنانا ہے تاکہ ملک میں تیار شدہ گاڑیوں کے مابین مسابقتی رجحان پیدا ہو اور صارفین کو معیاری اور کم نرخوں پر گاڑیاں مل سکیں، وزارت صنعت و پیداوار

327

اسلام آباد: پاکستان میں کم قیمت گاڑیوں کی پیداوار کا مسابقتی ماحول پیدا کرنے، مقامی تیار کردہ گاڑیوں کو برآمد کرنے اور برقی گاڑیوں کے فروغ کیلئے حکومت نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی لانے کی تیاری کر رہی ہے۔

اسی حوالے سے گزشتہ روز وزیر خزانہ کی زیر صدارت آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-2026ء کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار، مشیر تجارت عبد الرزاق دائود، معاون خصوصی برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر وقار مسعود ، وزارت خزانہ، تجارت، صنعت و پیداوار کے سیکریٹریز، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار نے اجلاس کے شرکاء کو آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-2026ء کے مسودے کے نمایاں پہلوﺅں کے بارے میں آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں کاریں بنانے والی تین بڑی کمپنیوں نے 8 سالوں میں کتنا ٹیکس دیا؟

رواں سال پاکستان میں ایک ہزار سی سی پاور کی کتنی کاریں فروخت ہوئیں؟

مالی سال 2020-21ء: پاکستان میں 13سو سی سی اور زیادہ پاور کی کتنی کاریں فروخت ہوئیں؟

انہوں نے بتایا کہ آٹو پالیسی کا مقصد پاکستان کو مقامی مارکیٹ کے لئے آٹو پارٹس اور گاڑیوں کی مسابقتی تیاری کے ساتھ ساتھ برآمدات کا مرکز بنانا ہے تاکہ ملک میں تیار شدہ گاڑیوں کے مابین مسابقتی رجحان پیدا ہو اور صارفین کو معیاری اور کم نرخوں پر گاڑیاں مل سکیں۔

سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے کہا کہ پالیسی میں قیمتی زرمبادلہ کے حصول کے لئے آٹو موبائل کے پرزہ جات اور مقامی تیار کردہ گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ کرنا بھی شامل ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ مجوزہ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی کا مقصد پاکستان میں کاروں، موٹرسائیکلوں، ٹریکٹروں وغیرہ کی پیداوار میں اضافہ کرکے آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متوسط اور کم آمدن والے طبقات کو کم نرخوں پر گاڑیوں کی دستیابی کے ذریعے صارفین کی فلاح اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر حکومت نے وفاقی بجٹ 2021-22ء میں 850 سی سی کاروں پر سیلز ٹیکس میں کمی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی چھوٹ دے کر ریلیف فراہم کیا ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار نے تصدیق کی کہ ٹیکسوں میں کمی کے ساتھ ہی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اور اس حوالے سے انڈسٹری نے عام لوگوں کی معلومات کے لئے بڑے پیمانے پر تشہیر بھی کی ہے۔ آٹو پالیسی سے گاڑیوں اور آٹوموبائل کے پرزہ جات کی برآمد کو بھی فروغ ملے گا۔

وزیر خزانہ نے الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر سمیت پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز مارکیٹ کی ترقی کے لئے مراعات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز کے فروغ سے تیل کی درآمدات پر انحصار کم ہو گا، درآمدی بل میں کمی ہو گی اور ماحول دوست توانائی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔

شوکت ترین نے ہدایت کی کہ صارفین کو کم مارک اَپ پر کار فنانسنگ کی سہولت کی فراہمی کے لئے جدید مصنوعات متعارف کروائی جائیں تاکہ ہر شخص لچکدار شرائط و ضوابط پر گاڑی خرید سکے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے کہا کہ آٹو سیکٹر خصوصاََ ای وی میں نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس سے آٹو کمپنیوں کو پاکستان میں متعلقہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب ملے گی۔

مشیر تجارت رزاق دائود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آٹو صنعت کو فروغ دینے کے لئے موجودہ ٹیرف سٹرکچر کو حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے بورڈ میں شامل اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع البنیاد مشاورت پر زور دیا تاکہ ایک ہم آہنگ اور مستقبل کی آٹو پالیسی پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here