نیب: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل کیخلاف نئی انکوائری کی منظوری

نیب نے اپنے قیام سے اب تک 814 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمد کئے ہیں جبکہ ایک ہزار 273 ریفرنس احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباََ 1300 ارب روپے ہے، چیئرمین نیب

181

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے سید تجمل حسین کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل اور دیگر کے خلاف 4 انکوائریوں کی منظوری دے دی۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ڈپٹی چئیرمین نیب حسین اصغر، پراسیکوٹر جنرل نیب سید اصغر حیدر، ڈی جی آپریشنز ظاہر شاہ اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ نیب

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سید تجمل حسین کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس کی منظوری دی گئی، ملزم نے غیر قانونی ٹیسٹنگ کمپنی قائم کرکے مختلف محکموں میں آسامیاں نہ ہونے کے باوجود اخبارات میں تشہیر کی اور دھوکا دہی اور فراڈ کے ذریعے بڑے پیمانے پر بے روزگار نوجوانوں کو ٹیسٹنگ فیس کے نام پر نہ صرف لوٹا بلکہ ان سے بھاری رقوم بھی وصول کیں۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل کے خلاف بد عنوانی کے الزامات کے تحت انکوائری شروع کرنے کی منظوری دی۔

اسی طرح نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف دو انکوائریاں شروع کرنے، محکمہ آب پاشی اور محکمہ ریونیو پشاور کے افسران/اہلکاران کے خلاف بھی انکوائری شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ نے مالم جبہ کیس میں میسرز سیمسن گروپ کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر رِٹ پٹیشن اور اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی سر براہی میں بنائی گئی کمیٹی اور اس کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹینڈرنگ پراسیس میں بے ظابطگیوں کی قانون کے مطابق تحقیقات کے لئے کیس چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو بھجوانے کی منظوری دی۔

ایگزیکٹو بورڈ نے یہ کیس چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اِس شرط کے ساتھ بھجوانے کی منظوری دی کہ متعلقہ کیس میں اگر کسی عدالت کا حکم امتناہ اور قانون کے مطابق کوئی امر مانع ہوا تو متعلقہ کیس کو قانون کے مطابق مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بعد دیکھا جا سکے گا۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن مقدمات خصوصاََ شوگر، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکائونٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز اور مضاربہ سکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 814 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمد کئے ہیں جبکہ ایک ہزار 273 ریفرنس احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباََ 1300 ارب روپے ہے۔

چئیرمین نیب نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ نیب ہیڈکوارٹرز میں کاروباری برادری کے رہنمائوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل حل کرنے کیلئے نہ صرف فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے مقدمات ایف بی آر کو بھجوا دئیے بلکہ نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر کی سربراہی میں سپیشل ڈیسک قائم کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here