بھارت میں فوجی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کیوں کی گئی ہے؟

268

نئی دہلی: بھارت میں دفاعی صنعت سے وابستہ فوجی اسلحہ اور دیگر سازوسامان تیار کرنے والی 41 فیکٹریوں نے غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلحہ ساز فیکٹریوں کی جانب سے ہڑتال کا اعلان وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے اُس آرڈیننس کے خلاف سامنے آیا جسے ’ڈیفنس سروسز بل 2021ء‘ کے نام سے رواں ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔

اس بل کے ذریعے حکومت دفاعی سازوسامان بنانے والی فیکٹریوں کے ملازمین کی ہڑتال کرنے پر مستقل پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل ہی بھارت کے طول و عرض میں قائم 41 اسلحہ ساز فیکٹریوں نے غیرمعینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ جمعرات کو راجیہ سبھا کی ایک کمیٹی میں ڈیفنس سروسز بل پر تبادلہ خیال کیا گیا، یہ  رواں ہفتے منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

آل انڈیا ڈیفنس ایمپلائز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری سی سری کمار کے مطابق ’’بی جے پی حکومت نے 41 اسلحہ ساز فیکٹریوں کے 246 سال پرانے آرڈیننس فیکٹریز بورڈ (او ایف بی) کو تحلیل کرکے کارپوریشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ان کے تقریباََ 80 ہزار ملازمین اور دفاع سے متعلق چار لاکھ سِول ملازمین فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘‘

سری کمار نے مزید کہا کہ ’’حکومت ملکی سلامتی اور کارکنوں کی حالت زار پر بھی فکرمند نہیں، لیکن ہم دفاعی فیکٹریوں کی نجکاری کی ہر قیمت پر مخالفت کریں گے۔‘‘

ادھر راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس کے چیف وہپ سکھیندو سیکھر رائے نے گزشتہ روز فیکٹری ملازمین کی طرف سے ہڑتال کی کال کی حمایت میں ایک ٹویٹ میں حکومت کے اقدام کی مذمت کی۔

دوسری جانب بھارت میں ٹریڈ یونینز کی تنظیم سیٹو (Centre of Indian Trade Unions) کے جنرل سیکریٹری ٹپن سین نے حکومت کے ڈیفنس سروسز بل کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے متعدد کنونشز کے خلاف قرار دیتے ہوئے آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے ریڈر (Guy Ryder) کو شکایت درج کرا دی ہے۔

سیٹو کے جنرل سیکریٹری نے آئی ایل او کو لکھا ہے کہ ’’بھارتی حکومت دفاعی پیداوار کے شعبے کی نجکاری کرنے جا رہی ہے اور آرڈیننس فیکٹریز بورڈ سے اس شعبے کو نکال کر سات حصوں میں تقسیم کرکے کارپوریٹ سیکٹر کے سپرد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے ملازمین کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے جو آئی ایل او کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو گی۔‘‘

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here