سپریم کورٹ: ریلوے کے عارضی ملازمین کی مستقلی پر سروسز ٹربیونل کا فیصلہ معطل

عارضی بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں اور سیاسی بھرتیوں نے ریلوے کو تباہ کر دیا، 80 فیصد آمدن تنخواہوں اور پنشن میں چلی جاتی ہے، عارضی بھرتیاں کر کے لوگ چلے جاتے ہیں جو بعد میں ریلوے کے گلے پڑ جاتی ہیں، عدالت کے ریمارکس

185

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے میں عارضی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے 80 ملازمین کی مستقلی سے متعلق سروس ٹربیونل کا فیصلہ معطل کر دیا۔

 عدالت عظمیٰ نے محمکہ ریلوے کی جانب سے دائر اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر تے ہوئے مقدمے میں فریق ملازمین کو نوٹسز جاری کر دیے۔

منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے محمکہ ریلوے کے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق فیڈرل سروسز ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف ریلوے کی اپیل پر سماعت کی۔

دوران سماعت ریلوے کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ سروسز ٹربیونل نے غلط طور پر عارضی ملازمین کو مستقل کر دیا، عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے پالیسی 2012ء میں بنائی گئی اور اس کا اطلاق 31 دسمبر 2011ء تک بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے تھا۔

ریلوے کے وکیل کا کہنا تھا کہ زیر غور کیس میں شامل ملازمین 2013ء میں بھرتی ہوئے، جو ریلوے پالیسی 2012ء پر پورا نہیں اترتے، ٹربیونل کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ملازمین 2013ء میں بھرتی ہوئے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ عارضی بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں اور سیاسی بھرتیوں نے ریلوے کو تباہ کر دیا ہے، سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے ہر طرف ریلوے میں گڑ بڑ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے حکام کے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے آج پاکستان ریلوے کا بُرا حال ہے، عارضی بھرتی ہونے والے ملازمین گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں، ریلوے میں اسی وجہ سے تو اتنے حادثات ہوتے ہیں، اب بھی ہر مہینے سینکڑوں کی تعداد میں عارضی بھرتیاں ہوتی ہیں جس پر ریلوے کے وکیل نے کہا کہ اب عارضی بھرتیوں پر پابندی ہے۔

اس دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ ریلوے کی 80 فیصد آمدن تنخواہوں اور پنشن میں چلی جاتی ہے، محکمے کا کوئی نظام نہیں، عارضی بھرتیاں کر کے لوگ چلے جاتے ہیں جو بعد میں ریلوے کے گلے پڑ جاتی ہیں۔ ملازمین تنخواہ لے کر گھر چلے جاتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے ریلوے کی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرکے مقدمے میں فریق ملازمین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے معاملہ پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here