گوگل کلائوڈ اور ایریکسن کے درمیان فائیو جی فراہمی کا معاہدہ

گوگل کلائوڈ اور ایرکسن کے درمیان معاہدے کا مقصد مواصلاتی اور کاروباری اداروں اور صارفین کیلئے نئی خدمات اور امکانات کی فراہمی ہے

346

کراچی: گوگل کلائوڈ اور ایریکسن نے باہمی شراکت سے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیز اور دیگر کاروباری اداروں کو فائیو جی سمیت انٹرنیٹ کی دیگر جدید ترین سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دونوں کمپنیوں کے اس اشتراک سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود کمیونیکیشن کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو خود کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے، نئے منصوبوں کے آغاز اور اپنے صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والی کمپنیوں کو کاروبار کو مزید ڈیجیٹل شکل دینے اور اپنے کسٹمرز کو نت نئی ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کرنے کے لیے دبائو کا سامنا ہے۔ ان میں رابطے کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں، ریٹیلرز، مینوفیکچررز، ہیلتھ کیئر اور میڈیا یا انٹرٹینمنٹ جیسی انڈسٹریز سے منسلک کمپنیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

سعودی عرب : 5G کے اجراء کا معاہدہ، 19ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

ایرکسن اور سام سنگ نے عالمی پیٹنٹ معاہدے پر دستخط کر دیئے

کاروباری اداروں کی اس مشکل کو آسان بنانے کے لیے گوگل کلائوڈ اور ایریکسن مل کر ایریکسن کی سلیکون ویلی کی اسٹیٹ آف دی آرٹ D15 لیبارٹریز میں کام کر رہے ہیں۔

ان لیبارٹریز میں کئی تہوں پر مشتمل فائیو جی پلیٹ فارم پر جدید وسائل کی تیاری اور جانچ پڑتال کی جاتی ہے جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیز کی استعداد بڑھانے کے لیے ایریکسن اور گوگل کلائوڈ پہلے ہی ایپلی کیشن پلیٹ فارم اینتھوز سے ایریکسن فائیو جی کو مربوط کر چکے ہیں۔

علاوہ ازیں گوگل کلائوڈ اور ایرکسن ٹی آئی ایم کے ساتھ براہ راست نیٹ ورک پر انٹرپرائز ایپلی کیشنز کی آزمائش کر رہے ہیں۔  یہ منصوبہ ٹی آئی ایم کے کور فائیو جی نیٹ ورک کے فنکشنز اور انٹرنیٹ سے چلنے والی ایپلی کیشنز کو خودکار بنا دے گا۔

اس پراجیکٹ میں ٹی آئی ایم کا ٹیلکو کلائوڈ انفراسٹرکچر، گوگل کلائوڈ سلوشنز، ایریکسن کے فائیو جی کور نیٹ ورک اور دیگر ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا جائے گا اور اس مشترکہ کاوش سے آٹوموٹیو، ٹرانسپورٹیشن، مینوفیکچرنگ اور دوسرے شعبوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ نیز ڈیٹا کی منتقلی میں ہونے والی تاخیر میں کمی واقع ہو گی۔

اس ضمن میں گوگل کلائوڈ کے سی ای او تھامس کوریان کا کہنا ہے کہ یہ کاروباری اداروں کے لیے شاندار موقع ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور فائیو جی کے ذریعے خود کو ڈیجیٹلائزڈ کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمیں فخر ہے کہ ہم ایریکسن کے ساتھ مل کر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیز اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے ایک بنیاد تعمیر کر رہے ہیں تاکہ انٹرنیٹ کی جدید ترین سہولتوں سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔‘

دوسری جانب ایریکسن نارتھ امریکا کے سربراہ اور صدر نکلاس ہولدوپ کا کہنا ہے کہ فائیو جی ایک طاقتور اختراعی پلیٹ فارم ہے، انٹرنیٹ کی جدید سہولتوں کی مدد سے فائیو جی صنعتوں یا معاشرے کے کسی بھی حصے کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں تیزی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمیں خوشی ہے کہ ہم گوگل کلائوڈ کے ساتھ مل کر عالمی پیمانے پر درپیش چیلنجز کو حل کر کے صارفین، کاروباری اداروں اور معاشرے کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔‘

قبل ازیں ایریکسن اور گوگل آپریٹر نیٹ ورکس کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے شراکت داری کر چکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here