موڈرنا ویکسین کون کون سے شہروں میں دستیاب ہو گی؟

200

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) نے ملک بھر کے 49 ویکسی نیشن سینٹرز پر موڈرنا ویکسین کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

یہ ویکسین کون سے افراد کو لگائی جائے گی، اس حوالے سے بھی گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہیں۔ پنجاب کے 15، سندھ کے 2، خیبر پختونخوا 13، بلوچستان 3، اسلام آباد 5، گلگت بلتستان 6 اور آزاد جموں و کشمیر کے 5 ویکسی نیشن سینٹرز پر موڈرنا ویکسین دستیاب ہو گی۔

پنجاب میں لاہور کے ایکسپو سنٹر اور ایل ڈی اے سپورٹس کمپلیکس، راولپنڈی میں ریڈ کریسنٹ سی وی سی، سرگودھا سول ڈیفنس ہال، فیصل آباد سمن آباد سپورٹس کمپلیکس، ملتان قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ، گوجرانوالہ ڈی ایچ او آفس سی وی سی میں موڈرنا ویکسین دستیاب ہو گی۔

اسی طرح بہاولپور ریڈ کریسنٹ سی وی سی، ڈی جی خان کینال ریسٹ ہائوس میڈیکل کالج، ساہیوال میں ساہیوال کلب (پناہ گاہ)، رحیم یار خان شیخ خلیفہ الائیڈ ہیلتھ سکول، گجرات عزیز بھٹی ہسپتال، سیالکوٹ ہاکی سٹیڈیم، جہلم کمپری ہینسو بوائز سکول اور چکوال میں چیف ایگزیکٹو ہیلتھ آفس ویکسی نیشن سینٹر پر موڈرنا ویکسین دستیاب ہو گی ۔

سندھ میں کراچی ایکسپو سینٹر، جام شورو میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں موڈرنا ویکسین دستیاب ہو گی۔ بلوچستان میں کوئٹہ کے بے نظیر ہسپتال، پراونشل ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس میں موڈرنا ویکسین فراہم کی جائے گی۔

این سی او سی کی ہدایات کے مطابق خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر ٹیچنگ ہسپتال، حیاب آباد میڈیکل کمپلیکس، ایبٹ آباد میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں موڈرنا ویکسین لگائی جائے گی۔

اسی طرح سوات میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال، سول ہسپتال مٹہ، مانسہرہ میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال، دیر اَپر ڈی ایچ کیو ہسپتال، دیر لوئر ڈی ایچ کیو ہسپتال، باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال، کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان ڈی ایچ کیو ہسپتال، مردان ایم ایم سی ہسپتال میں موڈرنا ویکسین دستیاب ہو گی ۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایف نائن پارک، فیڈرل گورنمنٹ ہسپتال، پمز، رورل ہیلتھ سنٹر ترلائی اور سی ڈی اے ہسپتال جی 6 میں موڈرنا ویکسین دستیاب ہو گی۔

اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں ایم وی سی گلگت، کورونا ویکسین سینٹر گلگت، ایم وی سی ہنزہ، ایم وی سی سکردو، ایم وی سی غذر اور سی وی سی ڈی ایچ کیو گھکچھ کے سینٹرز پر موڈرنا ویکسین دستیاب ہو گی ۔

آزاد جموں و کشمیر کے پانچ سنٹرز پر موڈرنا ویکسین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں مظفر آباد میں اے جے کے یونیورسٹی، میرپور میں بلدیہ ہال، پونچھ میں سپورٹس کمپلیکس، کوٹلی میں بلدیہ ہال اور باغ میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں موڈرنا ویکسین فراہم کی جائے گی۔

این سی او سی اعلامیہ کے مطابق موڈرنا ویکسین 18 سال سے زائد عمر کے ایسے افراد کو لگائی جائے گی جنہوں نے پہلے سے دستیاب ویکسین نہیں لگوائی، ان میں شوگر، ہائپر ٹینشن، دل کی بیماریوں اور جگر کے عارضے کے مریض بھی شامل ہیں۔

پوسٹ آرگن ٹرانسپلانٹ کرانے والے تین ماہ کے بعد جبکہ کیمو تھراپی کرانے والے مریض کیمو کے 28 دن کے بعد موڈرنا ویکسین لگوا سکتے ہیں، اس کے علاوہ بیرون ملک ورک ویزہ پر جانے والے افراد ورک ویزہ اور سفر کی ضروری دستاویزات کے ساتھ موڈرنا ویکسین لگوانے کے اہل ہوں گے۔

اس کے علاوہ بیرون ممالک جانے والے طلباء اور کارباری مقاصد کیلئے جانے والے افراد کو بھی موڈرنا ویکسین لگائی جائے گی جبکہ حاملہ خواتین بھی یہ ویکسین لگوانے کی اہل ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں لگائی جانے والی ویکسین کی تعداد ایک کروڑ 68 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جون کے مہینے میں اب تک 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔

این سی او سی کی جانب سے تمام وفاقی اکائیوں کو عید الاضحیٰ کیلئے مفصل ہدایات بھی جاری کر دی گئیں ہیں، ان ہدایات کی روشنی میں مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگائی جائیں اور کورونا ایس او پیز پرعمل کیا جائے گا۔ تمام سٹاف اور تاجر وں کو ویکسین لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کو مویشی منڈیوں کے تمام داخلی راستوں پر ہینڈ سینی ٹائزر، ماسک اور ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کی سہولیات میسر کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اندرون شہر عید قربان کے حوالے سے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

گلگت بلتستان میں کورونا کی مجموعی صورت حال اور ویکسی نیشن کے عمل کا جائزہ لینے کیلئے ڈائریکٹر جنرل این سی او سی کی قیادت میں وفد نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا۔

وفد نے گلگت، شگر اور ہنزہ کے ویکسین سنٹرز کا معائنہ کیا اور وہاں موجود عمائدین کو یقین دلایا کہ این سی او سی نے تمام سیاحتی مقامات کی ویکسین کیلئے رجسٹرڈ آبادیوں کو 100 فیصد ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گلگت بلتستان میں کورونا کی روک تھام اور ویکسین کے عمل میں بہتری لانے کیلئے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here