گیس بحران، کراچی کے ہر صنعتی زون میں ہفتہ وار گیس ہالیڈے کا فیصلہ

168

کراچی: کراچی کے صنعت کاروں نے گیس بحران سے نمٹنے کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ساتھ ایک متفقہ حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کے ساتوں صنعتی زونز ہفتہ وار باری باری اپنی فیکٹریوں میں ایک روز کا گیس ہالیڈے کریں گے۔

اس طرح جس صنعتی زون کا جس دِن ٹرن طے پایا اس دن وہاں کی فیکٹریوں میں گیس کا استعمال بند رہے گا تاکہ گیس کی قلت پر قابو پایا جا سکے اور صنعتی پیداواری سرگرمیاں بھی بلا رکاوٹ جاری رہیں۔

نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خان نے ایک بیان میں کہا کہ 29 جون 2021ء سے 9 جولائی 2021ء تک ٹرمینلز کی مرمت کا کام چلے گا، اس وقت تک سندھ میں بالخصوص کراچی میں گیس کی قلت کا سامنا رہے گا اور صنعتی زونز کو مکمل پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

بجٹ منظوری کے فوری بعد پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ

کے پی ڈی گیس فیلڈ سے سوئی سدرن کو دوبارہ گیس کی فراہمی بحال ہو گئی

توانائی بحران شدت اختیار کرنے لگا، گیس کی قلت کے بعد بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ کیا ہے؟

نکاٹی کے صدر نے بتایا کہ گیس بحران سے نمٹنے اور صنعتوں کی گیس بندش کا حل نکالنے کے لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی معاونت سے کراچی کی ساتوں ایسوسی ایشنز نے باہمی مشاورت سے سوئی سدرن کے ساتھ ایک ایم او یو سائن کیا ہے جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ کراچی کی ساتوں ایسوسی ایشنز ہفتہ وار باری باری ایک دن کا گیس ہالیڈے کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ جس صنعتی زون کی باری ہو گی اس دن مذکورہ صنعتی زون میں پیداواری عمل کے لیے گیس کا استعمال بند رکھا جائے گا تاکہ گیس کی قلت پر قابو پایا جا سکے جبکہ بقیہ چھ دن دیگر صنعتی زون جن کا گیس ہالیڈے نہیں ہو گا وہاں کی فیکٹریوں کو مکمل پریشر کے ساتھ گیس سپلائی کی جائے گی۔

فیصل معیز خان نے نارتھ کراچی کے صنعت کاروں سے درخواست کی کہ وہ آج بروز جمعرات اپنی فیکٹریاں گیس پر نہ چلائیں کیونکہ نارتھ کراچی کی ون ڈے گیس ہالیڈے کی باری جمعرات کو ہے اور اگر نارتھ کراچی کے کسی صنعتی یونٹ نے ایم او یو کی خلاف ورزی کی تو نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ذمہ دار نہیں ہوگی اور اس کے خلاف ممکنہ کارروائی کی صورت میں مدد نہیں کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here