پاکستان کا ایوان صدر مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل

صدر مملکت نے ایک میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے کا افتتاح کر دیا، بجلی بل کی مد میں لاکھوں کی بچت ہو گی، اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو دی جائے گی

578
اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایوان صدر میں ایک میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: پاکستان نے ایوان صدر کو مکمل طور پر ماحول دوست توانائی پر منتقل کر دیا، اس مقصد کیلئے ایوان صدر میں ایک میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے کا افتتاح صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کیا۔

پریزیڈنٹ گرین انیشی اٹیو کے تحت اینگرو کارپوریشن کے ساتھ شراکت داری کے تحت ایوان صدر کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ مکمل کیا گیا، اس منصوبے سے ایوان صدر کو بجلی فراہمی کے علاوہ سو فیصد اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی اور ماہانہ بجلی بل کی مد میں لاکھوں روپے کی بچت ہوگی۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے شمسی توانائی منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے 10 سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں ہوتا ہے، اسی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے حکومت نے واضح پالیسی مرتب کی ہے، آئندہ نسلوں کو بھی کفایت شعاری کی ترغیب دینا ہو گی۔

صدر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لئے متبادل توانائی اہمیت کی حامل ہے، حکومت نے بلین ٹری منصوبہ شروع کیا جو ملک کے قدرتی وسائل کو بچانے کی جانب اہم قدم ہے۔ قدرتی وسائل کے تحفظ کے لئے ایکو نظام کے متوازن حکمت عملی ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایوان صدر میں دس ہزار پودے لگانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ماضی میں ایوان صدر کی چھت سے سورج کی کرنیں اندر آتی تھیں تاہم اب ایسا نہیں ہے، اس نظام کو بھی بحال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مختلف پارکوں میں میاواکی انداز میں شجرکاری ماحول کے لئے بہترین ثابت ہو گی۔ انہوں نے پریزیڈنٹ گرین انیشی ایٹو پروگرام میں تعاون فراہم کرنے پر اینگرو کارپوریشن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ترقیاتی کوششوں میں نجی شعبے کی شمولیت سے انرجی کا تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں بہتری آئے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here