کین بنانے والی واحد کمپنی کا آئی پی او، بک بلڈنگ مرحلے میں ہی تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

بک بلڈنگ کی 3.3 ارب روپے ڈیمانڈ کے مقابلے میں سرمایہ کاروں کی مانگ 10.8 ارب روپے تک پہنچ گئی، انٹر لوپ کے بعد اب تک کا سب سے بڑا آئی پی او قرار، جنرل پبلک سبسکرپشن 29 جون سے 30 جون کی شام تک جاری رہے گی

1137

کراچی: ملک کی ایلمونیم کین بنانے والی واحد کمپنی پاکستان ایلمونیم بیوریج کینز لمیٹڈ (پی اے بی سی)  کے دو کروڑ 34 لاکھ شئیرز (25 فیصد ) کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کی جنرل پبلک سبسکرپشن 29 جون سے شروع ہو کر 30 جون تک جاری رہے گی۔

کمپنی سے جاری اعلامیئے کے مطابق پی اے بی سی کے آئی پی او کی بُک بلڈنگ کا مرحلہ گزشتہ ہفتے 3.3 گنا اوورسبسکرپشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس سے اب تک کی سب سے زیادہ سبسکرپشن کا ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔

آئی پی او میں بک بلڈنگ کی 3.3 ارب روپے ڈیمانڈ کے مقابلے میں سرمایہ کاروں کی مانگ 10.8 ارب روپے تک پہنچ گئی جس نے اس کو انٹر لوپ کے بعد اب تک کا سب سے بڑا آئی پی او بنا دیا ہے۔

آئی پی او کو ادارہ جاتی اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست ردِ عمل ملا اور فی حصص کی مقررہ قیمت 35 روپے سے بڑھ کر 40 فیصد اضافے کے ساتھ 49 روپے فی شئیر تک پہنچ گئی۔ آئی پی او کے ذریعے کمپنی نے 4.6 ارب روپے جمع کئے جس نے اسے پرائیویٹ سیکٹر کا دوسرا سب سے بڑا آئی پی او بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیے: ملک کی واحد کین بنانے والی کمپنی کا 26 فیصد شئیرز فروخت کرنے کا فیصلہ، 3.3 ارب آمدن متوقع

پی اے بی سی کی جنرل سبسکرپشن 29 جون صبح 9 بجے سے 30 جون کی شام 5 بجے تک جاری رہے گی اور الیکٹرانک آئی پی او کی صورت میں سبسکرپشن کا عمل 24 گھنٹے جاری رہے گا ۔

پی اے بی سی پاکستان اور افغانستان میں پیپسی اور کوکا کولا سمیت تمام بڑے کاربونیٹڈ مشروبات بنانے والے اداروں کو اپنے کین فراہم کرتی ہے۔ سال 2020ء میں کمپنی نے اپنی کل پیداوار کا 35 فیصد افغانستان کو برآمد کیا تھا۔

فیصل آباد کے سپیشل اکنامک زون میں 20.9 ایکڑ پر قائم سالانہ 70 کروڑ کین کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ پی اے بی سی کو دس سال تک ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے، اگلے سال جولائی تک کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت کو 36 فیصد بڑھا کر سالانہ 95 کروڑ کین سالانہ تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پچھلے پانچ سالوں میں کمپنی کی آمدنی میں سالانہ 18.7 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا ہے، اپنے آپریشنز کے تیسرے سال (2020ء) میں کمپنی کا خالص منافع 2019ء کے مقابلے میں 314 فیصد اضافے کے ساتھ 61 کروڑ روپے سے زائد رہا جبکہ 2021ء میں کمپنی کے خالص منافع میں 140 فیصد اضافہ کی توقع ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here