کاروباری برداری کا انٹر بینک ای ٹرانزیکشنز پر عائد فیس فی الفور واپس لینے کا مطالبہ

فیس کی وجہ سے کاروباری برادری ای بینکنگ کے بجائے نقد لین دین پر مجبور ہو گی جس سے غیردستاویزی معیشت کو فروغ ملے گا، ایل سی سی آئی

200

لاہور: تاجر اور کاروباری برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹر بینک ٹرانزیکشنز پر عائد فیس فوری طور پر واپس لی جائے، اس سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی۔

ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر محمد ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ اس فیس سے کاروباری برادری ای بینکنگ کے بجائے نقد لین دین پر مجبور ہو گی۔ 25 ہزار روپے سے زائد کی انٹربینک ٹرانزیکشنز پر 0.1 فیصد چارجز سے فائدے کے بجائے نقصان ہو گا اور کاروباری ماحول کو بھی نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ نقد لین دین کا رحجان بڑھنے سے غیردستاویزی معیشت کو فروغ ملے گا جو کسی طرح بھی ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سٹیٹ بینک نے ذہنی معذور افراد کا بینک اکاﺅنٹ کھولنے کی اجازت دے دی

غیرملکی سرمایہ کاروں کی ترسیلات زر سے متعلق سٹیٹ بینک کے اقدامات کی تعریف

سٹیٹ بینک کی ای کامرس ایکسپورٹرز کیلئے ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلیوں کی تجویز

واضح رہے کہ سٹیٹ بینک نے بینکوں کو 25 ہزار روپے سے زائد رقم کی منتقلی پر صارف سے فیس وصول کرنے کی اجازت دی ہے، اب کوئی بھی صارف ایک بینک سے دوسرے بینک میں ماہانہ 25 ہزار روپے بغیر کسی فیس ادائیگی کے ڈیجیٹل طور پر منتقل کر سکے گا تاہم اگر رقم 25 ہزار سے زیادہ ہوئی تو صارف سے فی ڈیجیٹل ٹرانزیکشن 0.1 فیصد یا 200 روپے بطور سروس فیس چارج کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کووڈ-19 کی وباء اور لاک ڈائون کی غیرمعمولی صورت حال کے باعث بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مارچ 2020ء میں ہدایت کی تھی کہ وہ ٹرانزیکشن کے حجم سے قطع نظر صارفین کو ایک سے دوسرے بینک میں رقوم کی منتقلی (آئی بی ایف ٹی) کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کریں۔

مرکزی بینک کے مطابق اب ملک میں کووڈ-19 کی صورت حال خاصی بہتر ہو چکی ہے اور نئے کیسز کی تعداد میں اتار چڑھائو کے بعد اب مجموعی حالات ایس او پیز پر مناسب عمل کرتے ہوئے نقل و حرکت پر پابندیاں نرم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

تاہم کاروباری برادری سٹیٹ بینک کے اس اقدام کی مخالفت کرتی نظر آتی ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں عموماََ کاروباری مقاصد کیلئے ایک ہی دن میں 25 ہزار روپے سے زائد رقم دوسرے بینک میں منتقل کرنا پڑتی ہے جس پر فیس لگنے سے انہیں نقصان ہو گا اور وہ نقد لین دین کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here