وزیر خزانہ کی عالمی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مقامی صارفین کو منتقل کرنے کی ہدایت

وزارت صنعت و پیداوار گھی اور خوردنی تیل کے مینوفیکچررز سے میٹنگ کر کے لائحہ عمل مرتب کرے، اگر اس ضمن میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں توحکومت سخت ایکشن لے گی، شوکت ترین

280

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بین الاقوامی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مقامی صارفین کو منتقل کرنے کیلئے وزارت صنعت و پیداوار کو گھی اور خوردنی تیل بنانے والے مینوفیکچررز سے میٹنگ کرنے کی ہدایت کر دی۔

سوموار کو وزیر خزانہ کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.28 فیصد اضافہ ہوا، اس سے قبل مسلسل تین ہفتوں تک بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا رحجان رہا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتہ 9 اشیاء کی قیمتوں میں کمی 21 کی قیمتوں میں اضافہ اور 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ کمیٹی کو گزشتہ چھ ہفتوں میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں کے رحجان اور صوبوں میں قیمتوں کے مابین موازنہ کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے نوٹ کیا کہ اسلام آباد میں قیمتوں میں کمی آ رہی ہے، انہوں نے اس ضمن میں اسلام آباد انتظامیہ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو قیمتوں کی کڑی نگرانی کیلئے ٹیموں کو متحرک بنانے کی ہدایت کی تاکہ عام آدمی کوریلیف فراہم کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے وزارت صنعت و پیداوار سے بین الاقوامی منڈیوں میں پام آئل اور سویا بین آئل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ قیمتوں میں کمی کا اثر ابھی تک مقامی منڈیوں میں منتقل نہیں ہوا۔

انہوں نے اس ضمن میں وزارت صنعت و پیداوار کو گھی اور خوردنی تیل بنانے والے مینوفیکچررز سے میٹنگ کرنے کی ہدایت کی تاکہ بین الاقوامی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مقامی صارفین کو منتقل ہو سکے۔

شوکت ترین نے کہا کہ اگر ملک میں کسی بھی جگہ اس ضمن میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں توحکومت سخت ایکشن لے گی۔

یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورز کی تعداد بڑھانے کے قومی منصوبہ پر کام جاری ہے، وزیر خزانہ نے ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز کو بلوچستان حکومت کی مشاورت سے ایسے مقامات پر سٹورز کھلوانے کیلئے تفصیلی منصوبہ بنانے کی ہدایت کی جہاں زیادہ سے زیادہ صارفین رعایتی نرخوں پر ضروری اشیاء کے حصول سے استفادہ کر سکیں۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جلد خراب ہونے والی اشیاء جیسے ٹماٹر، آلو، پیاز اور دالوں کی پیداواری سائیکل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ دالوں کی دو تہائی طلب کو درآمد کرکے پورا کیا جا رہا ہے، اس لئے دالوں کے سٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے کلیدی مقامات کی نشاندہی کی ہدایت کی جہاں کولڈ سٹوریج اور وئیر ہائوسز بنائے جا سکیں تاکہ جلد خراب ہونے والی اشیاء کو وہاں سٹور کیا جا سکے۔ اس ضمن میں سرکاری اور نجی شعبہ کے اشتراک کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی گئی۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کمیٹی کو ضروری اشیاء کی ویلیو چین کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے یہ بات نوٹ کی کہ کسانوں کے مقابلے میں ہول سیلرز کے منافع کا مارجن زیادہ ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں آئندہ اجلاس میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کو ویلیو چین کے تجزیہ اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔

وزیر خزانہ کو بین الاقوامی مارکیٹ میں ضروری اشیاء کی قیمتوں کے موازنہ رپورٹ کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا یہ رپورٹ عالمی بینک نے مرتب کی ہے۔

وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ چینی کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 58.3 فیصد اور سویا بین آئل کی قیمت میں 119.20 فیصد اضافہ ہوا، اپریل سے لیکر مئی تک کی مدت میں قیمتوں میں 23.5 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔

وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ کوویڈ 19 کی عالمگیر وبا کی وجہ سے بین الاقوامی رسد میں خلل پڑا جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ پام آئل کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 102.6 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 7.9 فیصد اضافہ ہوا۔

وزیر خزانہ کو مزید بتایا گیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اِس رحجان سے پاکستان میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے کیونکہ پاکستان گندم، چینی، خوردنی تیل، دالیں اور دیگرغذائی اشیاء درآمد کر رہا ہے، مشکل کے وقت حکومت نے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے۔

وزیر خزانہ نے چینی اور گندم کے سٹریٹجک ذخائر کے قیام کیلئے تمام ضروری اقدامات کی ہدایت کی تاکہ نئے مالی سال میں ان اشیاء کی مناسب اور بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے سرکاری، نجی اور حکومتی سطح پر گندم اور چینی کی بین الاقوامی خریداری کے آغاز کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here