بینک الحبیب نے ٹی پی ایل سے کراچی کی پرتعیش عمارت کتنے ملین ڈالر میں خریدی؟

ٹی پی ایل کے مالیاتی نتائج میں ’سنٹر پوائنٹ‘ نامی اس 28 منزلہ بلڈنگ کی مالیت 7 ہزار 647 ملین روپے (4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) بتائی گئی ہے تاہم لوگوں میں تجسس پایا جاتا ہے کہ اصل میں یہ بلڈنگ کتنے میں فروخت ہوئی

1810

17 مئی کو کو ٹی پی ایل پراپرٹیز اور بینک الحبیب نے بتایا کہ انہوں نے  کراچی کی شہید ملت ایکسپریس وے انٹر چینج کے قریب واقع ٹی پی ایل کے فلیگ شپ منصوبے ‘سنٹر پوائنٹ’ کی فروخت اور اس حوالے سے رقم کی ادائیگی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ کئی ماہ سے افہام و تفہیم کا عمل جاری تھا اور یہ خبر20 اگست  2020ء کو پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے جانے والے نوٹس کا فالو اَپ ہے جس میں بینک الحبیب نے بتایا تھا کہ  اس نے ٹی پی ایل پراپرٹیز کی مذکورہ عمارت کو خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹی پی ایل پراپرٹیز دراصل ٹی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ کا وہ ادارہ ہے جو پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہے، ٹی پی ایل  ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمپنی ہے جس کے تحت آٹو، آگ بھجانے، ہیلتھ اینڈ لائف انشورنس، رئیل اسٹیٹ ڈیویلپمنٹ اور سیکیورٹی کی سروسز فراہم کرنے والی ذیلی کمپنیاں قائم ہیں۔ ٹی پی ایل پراپرٹیز فروری 2007ء میں قائم ہوئی، 2016ء میں کمپنی نے خود کو پرائیویٹ لمیٹڈ سے پبلک کمپنی میں تبدیل کر لیا۔

کراچی میں سنٹر پوائنٹ نامی عمارت ٹی پی ایل کے عزائم کا مرکز ہے، یہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ایک شاندار تعمیر ہے، 28 منزلہ عمارت 385 فٹ بلند ہے اور 26 ہزار 226  مربع فٹ رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں ایک لاکھ 97 ہزار 810 سکوائر فٹ جگہ کرایے پر دینے کیلئے دستیاب ہے جبکہ 17 منزلوں پر دفاتر قائم ہیں (11ویں منزل سے 24ویں منزل تک اور 26ویں اور 27ویں منزل پر)۔

اس عمارت کو ٹی پی ایل کا فلیگ شپ منصوبہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی تعمیر بھی اسی انداز میں کئی گئی ہے۔ اس میں مکمل آئی ٹی انفراسٹرکچر، بین الاقوامی معیار کی سیکیورٹی اور آگ سے تحفظ کا نظام، پارکنگ کے لیے مختص 9 منزلیں، اور بجلی فراہمی کیلئے پاور پلانٹ موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس بلندوبالا عمارت میں ہیلتھ کلب، سوئمنگ پول اور کافی بار بھی بنایا گیا ہے۔

مسئلہ یہاں ہے : کمپنی نے کافی بار تک کی معلومات تو فراہم کی ہیں مگر اس عمارت کی اصل مالیت اور قیمتِ فروخت ظاہر نہیں کی۔ ایک ٹوئٹر صارف رشید ناریجو نے بھی اسی بابت سوال اٹھایا ہے کہ ’’اب جبکہ فریقین کے درمیان معاملات طے پا چکے ہیں، تو مجھے حیرت ہے کہ کس چیز نے خریدار ( بینک الحبیب ) اور فروخت کنندہ (ٹی پی ایل) کو اس کی قیمت بتانے سے روک رکھا ہے؟ اب تک ہر اہم شئیر ہولڈر کو لازمی طور پر اس ٹرانزیکشن بارے علم ہو چکا ہو گا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ اس طرح کی ٹرانزیکشنز میں ایڈجسٹمنٹ کی گنجائش رہتی ہے مگر کمپنی اس چیز کو ڈسکلیمر کے ضمرے میں ڈال کر ٹرانزیکشن کی معلومات افشاں کر سکتی ہے۔ ریگولیٹری قوانین کے لبادے میں اقلیتی شئیر ہولڈرز سے اہم معلومات چھپانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے، کیا قیمت فروخت کے علاوہ جاری ہونے والی معلومات کو اہم کہا جا سکتا ہے؟‘‘

پرافٹ نے ٹی پی ایل کارپوریشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) علی اصغر سے بھی یہی سوال پوچھا تاہم انہوں نے اس معاملے کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ضروری نہیں ہے اور یہ ایک کمرشل معاملہ ہے۔‘‘

پرافٹ کے مزید استفسار پر انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے معلومات کمپنی کے جاری کردہ تازہ مالیاتی بیانات (فنانشل اسٹیٹمنٹس) میں ہر کسی کے لیے دستیاب ہیں۔‘‘

31 مارچ 2021ء تک کے مالیاتی نتائج کے مطابق ٹی پی ایل کی بیلنس شیٹ میں سنٹر پوائنٹ کی مالیت 7 ہزار 647 ملین روپے یا 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔ علی اصغر کے مطابق ’اس عمارت کی قیمت فروخت اس مالی قدر کے مطابق یا اس سے زائد نرخوں پر کی گئی ہے، حقیقی اعدادوشمار جون 2021ء کے اختتام پر جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں دیے جائیں گے۔‘

چار کروڑ 90 لاکھ ڈٖالر دیکھنے میں ایک بڑی رقم لگ سکتی ہے مگر ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی بینک نے ایک عمارت کے لیے اتنی بڑی رقم دی ہو۔ 2017ء میں حبیب بینک لمیٹڈ نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع حبیب بینک ٹاور کی خریداری کے لیے ارب پتی حبیب اللہ خان کی ملکیتی شپنگ کمپنی میگا اینڈ فوربز کو 13 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

اُدھر یہ بھی حقیقت ہے کہ بینک الحبیب کو ایک عمارت کی اشد ضرورت تھی، اس کا پرانا دفتر آئی آئی چندریگر روڈ پر، حبیب بینک پلازہ کے سائے میں، ایک چھوٹی سی عمارت میں قائم تھا۔ شائد یہی چیز بینک الحبیب کے حبیب بینک لمیٹڈ کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتی ہے، جو 1974ء کی نجکاری سے پہلے حبیب خاندان کا حصہ تھا۔

چونکہ بینک الحبیب کی کارکردگی اچھی ہے لہٰذا اس کے لیے حبیب بینک کے سائے سے جان چھڑانا بہتر ہے۔ ستمبر  2020ء میں ایک کھرب روپے سے زائد کے ڈیپازٹس کی بناء پر  یہ پاکستان کا ساتواں بڑا بینک تھا اور 2020 میں اس کا بعد از ٹیکس منافع 28.6 ارب روپے رہا تھا۔

بینک الحبیب کی جانب سے سینٹر پوائنٹ کی خریداری کے بعد کمرشل بینکوں کے پتوں کے حوالے سے بھی تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے، سالہا سال سے شہر کا مالیاتی مرکز آئی آئی چندریگر روڈ ہے، جہاں سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارتیں واقع ہیں مگر اب یہ مرکز بدل رہا ہے۔ ذرا سمندر کنارے، ہاربر فرنٹ، حتی کہ تین تلوار پر خود حبیب بینک کی عمارت کو دیکھیے۔ ٹی پی ایل  پراپرٹیز نے بھی سینٹر پوائنٹ کی تعمیر ڈیفنس، کورنگی اور ائیرپورٹ تک آسان رسائی کو دیکھتے ہوئے ایک متبادل کے طور پر کی تھی۔

ٹی پی ایل کے حوالے سے بات کی جائے تو سینٹر پوائنٹ سے متعلق ٹرانزیکشن حالیہ برسوں میں کمپنی کی جانب سے لیے جانے والے دلچسپ فیصلوں میں سے ایک ہے۔ مثال کے طور پر جنوری 2019ء میں ٹی پی ایل نے متحدہ عرب امارات میں  رئیل اسٹیٹ کے سب سے بڑے انویسٹمنٹ ٹرسٹ  Equitativa کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے تاکہ پاکستان میں ایسی ہی کمپنی قائم کی جا سکے۔

متحدہ عرب امارات میں Equitativa کے پاس دو ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثوں کا انتظام ہے اور اس کا ٹی پی ایل کے ساتھ ایم او یو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں قواعدوضوابط کی نرمی کے بعد پہلی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری تھی۔

ٹی پی ایل پراپرٹیز کا دوسرا دلچسپ اقدام یہ تھا کہ اس نے کراچی میں فرئیر ہال کے قریب واقع 129 سال پرانی کاتراک مینشن (Katrak Mansion) خرید لی۔ نوآبادیاتی دور کی عمارت کی ملکیت حاصل کرنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ عمارت شہر کے مہنگے ترین علاقے میں موجود ہے اور تاریخی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہے، اہم  بات یہ کہ کمپنی آزادی سے قبل کی اس عمارت کو بلندوبالا عمارت میں تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ ماہر تعمیرات باہر سے اس کی تزئین و آرائش کریں گے اور اس کے اندر اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے۔ ممکنہ طور پر یہاں میوزیم بنانے کے منصوبے پر بھی غور ہو رہا ہے۔

ٹی پی ایل پراپرٹیز کا تیسرا دلچسپ اقدام کراچی کے علاقے کورنگی میں ایک ٹیکنالوجی پارک قائم کرنے کا فیصلہ ہے۔ کمپنی کے مطابق ’’ سندھ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ٹیکنالوجی پارک ہو گا جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی سے متعلق سہولیات میسر ہوں گی۔ ایسا ہائی اینڈ آئی ٹی انفراسٹرکچر یقینی طور پر پاکستان بھر میں کام کرنے والی آئی ٹی کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا، کمپنی کے مطابق اندازاََ یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہو جائے گا۔

سینٹر پوائنٹ کو فروخت کرنے سے متعلق کمپنی کی گزشتہ برس کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس سے ہمارے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ترقی کے حوالے سے کئی نئے راستے کھل جائیں گے۔‘‘

شائد یہی وجہ ہو گی جو ٹی پی ایل نے سنٹر پوائنٹ کی قیمت فروخت کے حوالے سے معلومات عام نہیں کیں، کیونکہ جو کچھ ان کے پاس ہے، یہ اس میں سے سب سے چھوٹی چیز ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here