محکمہ ایکسائز نے سرکاری امور کی انجام دہی کیلئے کسٹمز سے نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں مانگ لیں

محکمہ ایکسائز نے اپنی گاڑیاں پرانی اور ناکارہ ہونے اور حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث افسران کے فیلڈ وزٹ کیلئے محکمہ کسٹمز سے ایک لینڈ کروزر، پانچ ڈبن کیبن گاڑیوں اور پانچ کاروں کی درخواست کر دی

352

لاہور: محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب نے محکمہ کسٹمز سے درخواست کی ہے کہ وہ ضبط شدہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں سے کچھ گاڑیاں محکمہ ایکسائز کو دے دیں تاکہ فیلڈ وزٹ پر جانے والے افسران کے کام آ سکیں۔

پرافٹ اردو کو معلوم ہوا کہ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول صالحہ سعید نے کلکٹر کسٹمز لاہور کے ساتھ متعدد اجلاس اور خط و کتابت کی ہے اور کسٹمز حکام نے گاڑیاں محکمہ ایکسائز کے سپرد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس حوالے محکمہ ایکسائز کی جانب سے 28 مئی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ “محکمہ ایکسائز حکومت پنجاب  کو خاطر خواہ آمدن دیتا ہے، ٹیکس جمع کرنے اور دیگر کاموں کیلئے محکمے کے افسران اور اہلکاروں کو فیلڈ وزٹ کیلئے جانا پڑتا ہے۔”

خط میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کسٹمز حکام کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ ضبط شدہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں سے کچھ گاڑیاں محکمہ ایکسائز کو دے دیں، محکمہ ایکسائز نے ایک لینڈ کروزر، پانچ ڈبن کیبن گاڑیاں اور پانچ کاروں کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایکسائز ڈیپارٹمنٹ پنجاب حکومت کا سالانہ اربوں روپے کی آمدن دے رہا ہے، رواں سال بھی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا سالانہ ہدف 32 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے تاہم اس سب کے باوجود صوبائی حکومت نئی کاریں خریدنے کیلئے محکمہ ایکسائز کو فنڈز مہیا نہیں کر رہی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے محکمہ ایکسائز کو کئی دیگر مسائل کا سامنا بھی ہے، گاڑیوں کی خریداری بھی ایک مسئلہ ہے کیونکہ محکمے کی گاڑیاں پرانی، سال خوردہ اور ناکارہ ہو چکی ہیں۔

تاہم اگر محکمہ کسٹمز ضبط شدہ یا ٹمپرڈ گاڑیوں میں سے کچھ محکمہ ایکسائز کو فراہم بھی کر دیتا ہے تو ان کی اصل ملکیت محکمہ کسٹمز کے پاس ہی رہے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here