’ورک فراہم ہوم‘ کے عادی ایپل کے ملازمین کا دفتر سے کام سے انکار

173

کیلیفورنیا: امریکہ کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو گھر سے کام کرنے کے بعد اَب دفاتر میں کام کرنے کے حوالے سے ملازمین کی مزاحمت کا سامنا ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’دی ورج‘ کے مطابق کورونا وبا کے پیشِ نظر نافذ پابندیوں میں نرمی کے بعد آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو بھی دیگر کمپنیوں کی طرح آفس دوبارہ کھولنے پر دشواری کا سامنا ہے۔

کمپنی نے رواں برس ستمبر سے ملازمین کو ہفتے میں تین روز آفس آنے کی ہدایت کی ہے لیکن کمپنی کے تقریباََ 80 ملازمین نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے گھر سے کام کرنے والے ملازمین نے کمپنی سے مزید نرمی کرنے کی درخواست کی ہے۔

ملازمین کی جانب سے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ’کمپنی کی ورک پالیسی نے پہلے ہی ہمارے کئی ساتھیوں کو کمپنی چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ورک فراہم ہوم کی پالیسی بہتر رہی ہے اور اس سے ملازمین اپنی ملازمت اور زندگی میں توازن برقرار رکھ سکتے ہیں جبکہ وبا سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

خط میں ملازمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملازمین پہلے ہی دنیا بھر میں موجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہتر طور پر جڑے ہوئے تھے لیکن اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

واضح رہے کہ ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک نے گزشتہ ہفتے ملازمین کو ایک ای میل میں ریٹرن ٹو آفس پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملازمین کو پیر، منگل اور جمعرات کو دفاتر جب کہ بدھ اور جمعہ کو گھر سے کام کرنے کی اجازت ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here