جی سیون ممالک گوگل، فیس بک اور ایمازون سمیت ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ٹیکس لگانے پر متفق

ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر اُس ملک میں کم از کم 15 فیصد ٹیکس ادا کریں جہاں وہ کاروبار کرتی اور منافع کماتی ہیں، 'جی سیون' ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں اتفاق

285

لندن: برطانیہ میں جی سیون ممالک کے اجلاس میں گوگل، فیس بک اور ایمازون سمیت ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ٹیکس لگانے پر اتفاق ہو گیا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں پر کم سے کم کارپوریٹ ٹیکس کی حد 15 فیصد رکھنے کے اصول پر تمام رکن ممالک نے اتفاق کیا ہے، ٹیکس سے ان ممالک کی حکومتوں کو اربوں ڈالرز کی آمدن متوقع ہے۔ اس طرح یہ ممالک ٹیکس وصول کر کے کورونا کی وبا کے دوران اقتصادی بحران کے لئے حاصل کردہ حکومتی قرضوں کو واپس کر سکیں گے۔

جاپانی نشریاتی ادارے نے اس حوالے سے بتایا کہ سات بڑے صنعتی ترقی یافتہ ممالک کے گروپ ‘جی سیون’ کے وزرائے خزانہ اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شرکاء نے عالمی سطح پر کم از کم ٹیکس کی شرح کے اصول پر اتفاق کیا ہے جو اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر اس ملک میں کم از کم 15 فیصد ٹیکس ادا کریں جہاں وہ کاروبار کرتی اور منافع کماتی ہیں۔

جی سیون گروپ کے وزرائے خزانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ٹیکس حاصل کرنے سے ممالک کو کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث ہونے والے اقتصادی نقصانات پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

وزرائے خزانہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایک مخصوص حد سے زیادہ کسی بھی منافع کا کچھ حصہ دوبارہ مختص کیا جائے گا اور پھر ان ممالک میں ٹیکس عائد ہو گا جہاں وہ کاروبار کرتے ہیں۔ مذکورہ ضابطہ دنیا کی 100 بڑی اور سب سے زیادہ منافع بخش کمپنیوں پر لاگو ہو گا جن میں سے بیشتر امریکی کمپنیاں ہیں۔

اس سے قبل ہفتے کے روز جی سیون گروپ کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں جن تجاویز کی توثیق کی گئی وہ دو حصوں پر مشتمل ہیں۔

پہلے حصے میں ان کمپنیوں کے منافع پر ٹیکس لگانے کی اجازت ہو گی جو متعلقہ ملک میں موجود تو نہیں ہیں لیکن وہاں ان کی فروخت بڑے پیمانے پر ہے، ممالک کو یہ حق حاصل ہو گا کہ دس فیصد پرافٹ مارجن سے اضافے کی صورت میں 20 فیصد ٹیکس لاگو کیا جائے۔

اِن تجاویز کے دوسرے حصے کے مطابق کمپنیوں کے بیرون ممالک منافع کمانے کی صورت میں 15 فیصد ٹیکس لگایا کیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق فرانس اور اس جیسے دیگر ڈیجیٹل سروس ٹیکس عائد کرنے والے ممالک عالمی معاہدے کی حمایت میں یکطرفہ ٹیکسوں کو ہٹائیں گے۔ امریکہ نے ان ڈیجیٹل ٹیکسز کو غیر منصفانہ قرار دیا ہوا ہے جو گوگل، ایمازون اور فیس بک جیسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزرائے خارجہ کا اجلاس جی سیون ممالک کے سربراہان کے اجلاس سے پہلے منعقد ہوا ہے، سربراہان کا اجلاس برطانیہ کے علاقے کونوال میں 11 سے 13 جون تک جاری رہے گا، گروپ کی سربراہی کرنے کے باعث دونوں اجلاسوں کی میزبانی برطانیہ کر رہا ہے۔

جی سیون ممالک کی توثیق کی وجہ سے پیرس میں 140 سے زائد ممالک کے مابین ہونے والے مذاکرات کے دوران معاہدہ ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here