آئندہ سال عالمی سطح پر مزید 22 کروڑ افراد بے روزگار ہونے کا خدشہ

بے روزگاری کی شرح جلد از جلد بھی 2023ء تک ہی وبا سے قبل کی سطح پر واپس آ سکے گی، یورپ، وسطی ایشیا، لاطینی امریکہ اور غرب الہند شدید متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، آئی ایل او

211

اقوام متحدہ: عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر روزگار کی بحالی 2023ء سے پہلے ممکن نہیں۔

آئی ایل او کی ملازمت کی عالمی صورت حال اور سماجی خاکے سے متعلق 2021 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں لوگوں کے روزگار کو کورونا وائرس کی وبا سے ہونے والے نقصانات کی مناسب بحالی کم از کم 2023ء تک ممکن نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی بحالی کے اشاروں کے باوجود تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ 2021ء میں 22 کروڑ مستقل ملازمین جبکہ 2022ء میں 20 کروڑ 50 لاکھ مستقل ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے تاہم یہ دونوں اعدادوشمار 2019ء کی تعداد 18 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے روزگاری کی شرح جلد از جلد بھی 2023ء تک ہی کورونا وائرس کی وبا سے قبل کی سطح پر واپس آ سکے گی، خطوں کے لحاظ سے یورپ، وسطی ایشیا، لاطینی امریکہ اور غرب الہند شدید متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے رائیڈر نے کہا ہے کہ ویکسین لگانے کے عمل میں پیشرفت اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی لانے والا طاقت ور عنصر ہے تاہم ویکسین کی تقسیم منصفانہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا عنصر ہے جو پہلے سے موجود عدم مساوات کی صورت حال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے ویکسین کی دنیا بھر میں منصفانہ تقسیم میں تعاون کا مطالبہ کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here