متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان دوہرے ٹیکس سے بچنے کیلئے معاہدے پر دستخط

118

دبئی: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے دوہرے ٹیکس سے بچنے کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

خلیج ٹائمز نے اسرائیل کی وزارت خزانہ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال تعلقات معمول پر آنے کے بعد باہمی سرمایہ کاری کے حوالہ سے ایک اہم پیشرفت ہے اور اس سے دوطرفہ کاروباری فروغ کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق یہ معاہدہ اقتصادی تعاون اور ترقی کیلئے آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے ماڈل پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پانچ ماہ میں دبئی اور اسرائیل کا تجارتی حجم ایک ارب درہم سے متجاوز

متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی سیاحوں کیلئے ویزے کھول دئیے

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے پر رضامند

یو اے ای کی وزارت خزانہ نے اکتوبر 2020ء میں اسرائیل کے ساتھ دوہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے ابتدائی معاہدے کی تصدیق کی تھی۔

گزشتہ سال متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے بعد اسرائیل کا ان دو میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ دوہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لئے یہ پہلا معاہدہ ہے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد کے لئے اسرائیلی کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری لی جائے گی جس کے بعد اس پر یکم جنوری 2022ء سے عملدرآمد شروع ہونے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی ادارے کریڈٹ انشورنس کمپنی Atradius کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے کے بعد پانچ ماہ کے اندر باہمی تجارت کا حجم 280 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار اسرائیلی سیاحوں نے متحدہ عرب امارات کا رخ کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ دوہرے ٹیکسوں سے بچنے کے معاہدے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here