آسٹریلیا نے پاکستانی آموں کی درآمدات کیلئے مزید دو مینگو پروسیسنگ فارمز کی منظوری دیدی

رواں سیزن میں آم کی برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے تاہم اس کا ہدف ایک لاکھ 50 ہزار ٹن مقرر کیا گیا ہے جس سے ملک کو 12 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہو گا

355

اسلام آباد: آسٹریلیا نے پاکستان سے آموں کی درآمدات کے لیے مزید دو مینگو پروسیسنگ فارمز کی منظوری دے دی ہے۔

اب تک صرف ہارٹی فریش اور پارس فوڈز نامی دو فارمز کو ہی آسٹریلیا کو آم برآمد کرنے کی منظوری ملی ہوئی تھی، پانچ سال قبل وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ذیلی ادارہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے تجزیاتی ڈیسک کے قیام کے بعد آسٹریلوی حکومت کو مزید دو پروسیسنگ فارمز کو اپنی درآمدی فہرست میں رجسٹر کرنے کیلئے باقاعدہ درخواست دی گئی تھی۔

اس حوالے سے مشیر تجارت و سرمایہ کاری رزاق دائود نے برآمدکنندگان کو مبارک باد دیتے ہوئے ایک ٹویٹ  میں کہا کہ آسٹریلیا نے پاکستان کی طرف سے بھجوائی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے مصطفیٰ زرعی فارم کوٹری اور افتخار احمد اینڈ کمپنی کراچی کو ہاٹ واٹر ڈپنگ ٹریٹمنٹ (ایچ ڈبلیو ڈی ٹی) کی سہولیات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے اس اقدام کا آغاز 2014ء میں شروع کیا گیا تھا اور تب سے 2021ء تک تواتر کے ساتھ آسٹریلیا ادارے نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن کو پودوں کے حوالے سے درکار مطلوبہ تکنیکی اطلاعات فراہم کی جاتی رہیں۔

اس کے علاوہ مجوزہ منصوبے کی منظوری کے عمل کے دوران محکمہ پلانٹ پروٹیکشن نے منظور شدہ ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ساتھ بھی رابطہ رکھا اور اسے تکنیکی تعاون، رہنمائی اور دستیاب دستاویزات بھی فراہم کیں تاکہ آسٹریلوی ادارے نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

کئی سالوں پر محیط خط وکتاب، دوطرفہ تعاون اور باہمی رابطوں کے بعد بالآخر پاکستانی ادارہ برائے پلانٹ پروٹیکشن اور آسٹریلوی حکومت، آسٹریلوی ادارے این پی پی او نے پاکستان کے دو زرعی فارمز کی آف شور رجسٹریشن کی منظوری دیتے ہوئے انہیں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی سہولت کی فراہمی اور پاکستانی آموں کی آسٹریلوی منڈیوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی کی منظوری دی۔

وزارت کے اعلامیہ کے مطابق لطف آباد ملتان کو ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی سہولیات کی فراہمی کے لئے این پی پی او آسٹریلیا کے ساتھ مشاورت جاری ہے، اس حوالے سے ڈی پی پی کو آسٹریلوی ادارے کی جانب سے اضافی معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

رواں سیزن کا برآمدی ہدف

دوسری جانب رواں سیزن میں پاکستان سے آم کی برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے تاہم اس کا ہدف ایک لاکھ 50 ہزار ٹن مقرر کیا گیا ہے جس سے ملک کو 12 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہو گا۔

آم کے حالیہ برآمدی سیزن کا آغاز 25 مئی سے ہو چکا ہے تاہم اب بھی دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک میں لاک ڈائون کے اثرات کی وجہ سے  تجارتی پابندیاں برقرار ہیں، پاکستان سے کئی ممالک کیلئے پروازیں بھی معطل یا ممنوع ہیں۔

پاکستان بزنس فورم کے نائب صدر احمد جواد نے خدشہ ظاہر کیا ہے اگر صورت حال میں تبدیلی نہ آئی تو پاکستان کی آم کی برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے۔

’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ آم کی کھیپ کے لئے یورپ اور کینیڈا کے لئے خصوصی کارگو پروازوں کا انتظام کر رہی ہے تاکہ برآمدی ہدف آسانی سے پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں سیزن میں پاکستانی آم بڑے پیمانے پر چینی مارکیٹ میں بھی داخل ہوں گے۔ گزشتہ سال پاکستان نے شنگھائی میں مینگو فیسٹیول کی تقریب کا انعقاد کیا تھا جسے بہت پذیرائی ملی تھی۔

احمد جواد نے کہا کہ ملک میں آم کی سالانہ پیداوار 18 لاکھ ٹن ہوتی ہے اور برآمدات پیداوار کے مقابلہ میں کم ہیں، اگر گزشتہ دس سالوں کے اعدادوشمار دیکھے جائیں تو زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ 40 ہزار ٹن برآمدات کی گئیں۔ آم کی برآمدات میں اضافہ سے نہ صرف برآمد کنندگان بلکہ ملک کو بھی فائدہ ہو گا کیونکہ اس سے قیمتی زرمبادلہ ملے گا۔

پی بی ایف کے عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی آم میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ آپ اسے کہیں بھی برآمد کر سکتے ہیں بشرطیکہ اس کے لئے عالمی سطح پر مارکیٹنگ ضروری ہے۔ پبلک پرائیویٹ منصوبہ کے تحت آم کے رائپنگ مراکز کا قیام کرنا چاہئے تاکہ آم کی برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here