ناقص سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے رواں سال بھی گندم کے بحران کا خدشہ

160

اسلام آباد: ملک بھر میں ریکارڈ گندم کی پیداوار کے باوجود حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے گندم بحران کا خدشہ ہے۔ 

وائس چئیرمین پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کاشف شبیر نے پرافٹ اردو کو بتایا پنجاب کا رواں سال کے دوران 35 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرنے کے باوجود فلور ملز کو گندم کی خریداری میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے گندم کی فلور ملز کو سپلائی کے بحران اور پرمٹ سسٹم سمیت مختلف وجوہات کا حوالہ دیا۔ وفاقی حکومت نے گندم کی رسد اور طلب کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا سسٹم متعارف کرایا اور اس حوالے سے فلور ملز کو پرمٹس بھی جاری کیے۔

تاہم پنجاب حکومت نے اس اجازت نامے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جس کی وجہ سے فلور ملز کو گندم سپلائی میں بحران ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کے گندم فروخت کرنے کی بجائے ذخیرہ کرنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ “فلور ملز 2040 روپے فی من گندم کی خریداری کررہی ہیں جبکہ حکومت کی طے کردہ قیمت 1800 روپے فی من ہے”۔

پی ایف ایم اے حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں بڑھنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں تندوری روٹی کی قیمتیں بڑھنے کا بھی امکان ہے۔

انہوں ںے صوبائی محکمہ خوراک سے پرمٹ سسٹم ختم کرنے اور فلور ملز کو تمام صوبوں سے گندم خریدنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here