‘آئندہ دو سالوں میں جی ڈی پی کی شرح نمو میں 6 فیصد اضافہ کا ہدف مقرر’

12 شعبوں کی ترقی کیلئے جامع حکمت عملی تیار، بجٹ میں اضافی ٹیکس نہیں لگے گا، حکومت غریب طبقے کو آٹے اور بجلی میں سبسڈی فراہم کرے گی، وزیر خزانہ شوکت ترین

202

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئندہ دو سالوں میں پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو میں چھ فیصد اضافہ کا ہدف مقرر کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کی پالیسی کے تحت مائیکرو فنانس بینک چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینے کیلئے لوگوں کو قرض کی سہولت فراہم کریں گے۔

انہوں نے مجموعی معاشی کامیابی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے زراعت اور تعمیراتی شعبے کو دی گئی مراعات کے فوائد سامنے آ رہے ہیں، ہائوسنگ، تعمیرات اور زرعی شعبے ترقی کر رہے ہیں جبکہ برآمدات میں گزشتہ چند ماہ سے 40 سے 50 فیصد تک بہتری آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت کو مالی سال 2022ء میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد رہنے کی توقع

آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کی جی ڈی پی 6 فیصد ہونا معمول کی بات ہو گی، خلیج ٹائمز

عالمی بینک، آئی ایم ایف کے تخمینے کے برعکس پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.94 فیصد رہنے کا امکان

وزیر خزانہ نے کہا ہم ایسا قابل عمل منصوبہ لانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسان منڈی میں آ کر خود اپنی مصنوعات فروخت کریں۔

ایک سوال کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) اور مائیکرو فنانس بینکوں کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کاروباروں کو قائم کرنے کے خواہاں افراد کے لئے قرض کی سہولیات شروع کریں۔ اخوت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس نے سینکڑوں لوگوں کو 150 ارب روپے قرض دیا ہے۔

شوکت ترین نے وزیراعظم کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان معاشی استحکام اور غربت کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ 12 مختلف شعبوں کی ترقی کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اپوزیشن کو معاشی ترقی پر شک ہے تو اعدادوشمار کا موازنہ کرلیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں ہم اضافی ٹیکس عائد نہیں کریں گے، حکومت معاشرے کے غریب طبقے کو آٹے اور بجلی میں سبسڈی فراہم کرے گی، ہماری توجہ ریونیو اور معاشی نمو میں اضافہ پر ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here