پاکستان ارجنٹائن مشترکہ کمیشن کا اجلاس، تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کا فیصلہ

اجلاس میں دونوں ملکوں نے زراعت، ادویہ سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں جوائنٹ ورکنگ گروپس کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا

175

اسلام آباد: پاکستان اور ارجنٹائن کے مشترکہ کمیشن نے مختلف شعبوں میں تجارت اور معاشی تعاون کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور ارجنٹائن کے مشترکہ کمیشن کے تیسرے ورچوئل اجلاس میں دوطرفہ تجارت اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکسٹائل، ادویہ سازی، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعت، بحری امور، سیاحت اور جنگلات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔

مشترکہ کمیشن کے اجلاس سے قبل دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کے اجلاس بھی 19 مئی اور 21 مئی 2021ء کو منعقد ہوئے۔

پاکستانی وفد کی سربراہی سیکرٹری اقتصادی امور نور احمد نے کی جبکہ ارجنٹائن کے وفد کی سربراہی ارجنٹائن کے سفارت کار، وزارت خارجہ امور اور عالمی تجارت کے محکمہ کے انڈر سیکرٹری کیرولا رامن نے کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے سفیروں کے علاوہ متعلقہ تکنیکی محکمہ جات کے ماہرین بھی شریک تھے۔

سیکرٹری اقتصادی امور نور احمد نے مساوات اور شفافیت کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان تعان کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا جبکہ ارجنٹائن کی جانب سے بھی ہاکستان کے ساتھ باہمی تعاون اور تجارت کے فروغ میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

فریقین نے باہمی تجارت اور مواشی تعاون میں اضافہ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور فیصلہ کیا کہ دوطرفہ تجارت میں اضافہ کے حوالہ سے اقدامات کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ آئندہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے مابین بزنس ٹو بزنس رابطوں کے فروغ کیلئے مشترکہ بزنس کونسل قائم کی جائے گی۔

کمیشن کے اجلاس کے دوران دونوں ملکوں نے زراعت، ادویہ سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں جوائنٹ ورکنگ گروپس کی تشکیل پر بھی اتفاق بھی کیا تاکہ مستقبل میں تجارت اور معاشی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

ارجنٹائن کی جانب سے پاکستان کو مختلف منصوبوں میں تکنیکی معاونت کی پیش کش بھی کی گئی۔ اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری کے فروغ، زراعت، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، بحری امور اور سیاحت کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ مزید برآں ان اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے سالانہ فالو اَپ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here