دس ماہ میں 24.2 ارب ڈالر کی ترسیلات، اوورسیز پاکستانیوں نے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے

ترسیلات زر اپریل 2021ء میں بڑھ کر اب تک کی بلند ترین ماہانہ سطح دو ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال اسی مہینے آنے والی رقوم سے 56 فیصد زائد ہے

429

کراچی: رواں مالی سال کے دس ماہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد اضافہ ہوا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے منگل کو جاری اعلامیہ میں بتایا کہ مجموعی طور پر ترسیلات زر نے سابق تمام ریکارڈ بھی عبور کر لیے ہیں۔ رواں مالی سال 2020-21ء کے دس ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران بیرون ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلات زر 24 ارب 20 کروڑ تک جا پہنچیں۔

ترسیلات زر کی یہ شرح گزشتہ مالی سال 2019-20ء کے دس ماہ کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں مجموعی طور پر 18 ارب 80 کروڑ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں تھیں۔

جولائی 2020ء سے لے کر اپریل 2021ء تک سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنوں نے ارسال کیں جن کا حجم چھ ارب 40 کروڑ ڈالر رہا۔

دس ماہ کے دوران ترسیلات زر کے حوالے سے متحدہ عرب امارات پانچ ارب 10 کروڑ ڈالر کے ساتھ، برطانیہ تین ارب 30 کروڑ ڈالر کے ساتھ تیسرے اور امریکہ دو ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد ترسیلات زر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلات زر اپریل 2021ء میں بڑھ کر اب تک کی بلند ترین ماہانہ سطح دو ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال اسی مہینے آنے والی رقوم سے 56 فیصد زائد ہے۔

اپریل 2021ء میں سعودی عرب سے چھ کروڑ 90 لاکھ ڈالر، متحدہ عرب امارات سے پانچ کروڑ 89 لاکھ، برطانیہ سے تین کروڑ 90 لاکھ، دیگر خلیجی ممالک سے تین کروڑ 13 لاکھ جبکہ امریکہ سے دو کروڑ 84 لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

رواں مالی سال کے دوران کارکنوں کی ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر لانے میں جو عوامل مددگار رہے ہیں ان میں باضابطہ ذرائع سے رقوم کی زائد آمد کی حوصلہ افزائی کی خاطر حکومت اور سٹیٹ بینک کے فعال پالیسی اقدامات، کورونا وبا کے باعث سرحد پار سفر کا محدود ہونا، وبا کے دوران بہبودی رقوم کی پاکستان کو منتقلی، بازارِ مبادلہ میں استحکام کی صورتِ حال اور حال ہی میں عید سے متعلق رقوم کی آمد شامل ہیں۔

دوسری جانب ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کا عظیم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زرکا حجم 24 ارب 20 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

منگل کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو ہمیشہ سے ملک کا عظیم اثاثہ سمجھتے ہیں۔ اپریل میں ترسیلات زر بڑھ کر دو ارب 80 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور رواں مالی سال 21-2020 کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر کا حجم 24 ارب 20 کروڑ ڈالر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ترسیلات زر کے حوالے سے مالی سال 20-2019ء کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔  نئے پاکستان پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کا شکریہ ادا کرتےہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here