نیب کا رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ

’کک بیکس اور ہائوسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانے جیسے الزامات کی تحقیقات کیلئے ماہرین پر مشتمل  اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے‘

539

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن اور اراضی کے حصول کے حوالے سے الزامات کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب راولپنڈی کو رنگ روڈ پراجیکٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کی جامع انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو کرپشن سے پاک پاکستان کیلئے جدوجہد کر رہا ہے، غیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے ذریعے عوامی پیسہ لوٹنے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف نیب کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

رنگ روڈ سکینڈل: وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے استعفیٰ دیدیا

راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی لاگت میں 25 ارب اضافہ، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم

راولپنڈی رنگ روڈ پروجیکٹ کیلئے بڑا جھٹکا، عالمی ادارے کا مالیاتی وسائل فراہمی سے انکار

رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات کی ذمہ داری کمشنر راولپنڈی گلزار حسین شاہ کے ذمہ لگائی گئی تھی، انہوں نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ نیب سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود اور سابق لینڈ ایکوزیشن کمشنر وسیم تابش کیخلاف تحقیقات کرے جنہوں نے رنگ روڈ کیلئے اراضی کے حصول کے دوران غیرقانونی طور پر دو ارب 30 کروڑ روپے خرچ کیے۔

تاہم دونوں افراد نے اپنے خلاف الزامات کی یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ پروجیکٹ کے کسی بھی مرحلے پر کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمی وقوع پذیر نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کی حد بندی 2017ء میں نیسپاک کی جانب سے تیار کی گئی، تاہم اس کی منظوری نہیں دی گئی، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اور دیگر محکموں نے بھی اس پر اعتراض کیا تھا۔

’2021ء میں زیورخ انٹرنیشنل نے رنگ روڈ کی ری الائنمنٹ (دوبارہ حد بندی) کی، یہ تمام تبدیلیاں قطعی طور پر تکنیکی نوعیت کی تھیں اور اس دوران کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی کو فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔‘‘

انہوں نے تجویز دی کہ کک بیکس اور ہائوسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانے جیسے الزامات کی تحقیقات کیلئے ماہرین پر مشتمل  اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ایک دوسرے رکن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راولپنڈی شعیب نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عوامی عہدہ رکھنے والی کسی شخصیت کے اس سکینڈل میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ ’تاہم منصوبے کی منظوری اور الائنمنٹ پبلک ہونے کے بعد مختلف اسٹیٹ پلئیرز کو اس سے فائدہ پہنچا۔‘

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ کے مطابق زیورخ انٹرنیشنل کی جانب سے رنگ روڈ کی الائنمنٹ پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کو شکایت موصول ہوئی تھی کہ کچھ بااثر گروہوں اور سیاستدانوں کے ایماء پر رنگ روڈ کی حد بندی تبدیل کی گئی جس کی وجہ سے منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہو گیا جس سے ٹیکس دہندگان پر کم از کم 25 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

شکایت موصول ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو رنگ روڈ منصوبے کی حد بندی میں مبینہ تبدیلی کی جامع تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے رنگ روڈ منصوبے کی ری الائمنٹ منظور کرنے پر متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار یا براہِ راست ‘مستفید ہونے والے’ غلام سرور خان اور زلفی بخاری کو استثنٰی نہیں دیا جا سکتا۔

بعد ازاں ایشین انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے راولپنڈی رنگ روڈ پروجیکٹ کو اپنی مالی وسائل کی فراہمی کی فہرست سے نکال دیا۔ رنگ روڈ کی تعمیر کیلئے 45 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ میں سے 40 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ایشین انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے ملنے کی توقع تھی۔

گزشتہ روز رنگ روڈ سکینڈل میں الزامات سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی انکوائری کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں، الزاماے سے کلیئر ہونے تک وہ عہدے سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here