احساس کیش پروگرام دنیا میں سماجی تحفظ کے چار بہترین پروگراموں میں شامل: عالمی بینک

احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت گزشتہ سال ایک کروڑ 50 لاکھ گھرانوں میں 12 ہزار روپے فی خاندان رقوم تقسیم کی گئیں جس کا مطلب ہے کہ دس کرڑ سے زائد افراد یا ملک کی آدھی آبادی کی مالی معاونت کی گئی

549

اسلام آباد: عالمی بینک نے کووِڈ 19 سے نمٹنے کیلئے سماجی تحفظ کے پروگراموں پر مبنی اپنی رپورٹ میں پاکستان کے احساس کیش پروگرام کو چوتھے نمبر پر رکھا ہے۔

عالمی بینک نے 650 صفحات کی رپورٹ جاری کی ہے جو 18 شراکت داروں اور معاونین کی مدد سے تیار کی گئی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مختلف ممالک اور خطے وبائی مرض کے تناظر میں سماجی تحفظ کے اقدامات کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 20 مارچ 2020ء سے 14 مئی 2021ء کے درمیان سماجی تحفظ کے اقدامات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور 222 ممالک یا خطوں میں سماجی تحفظ کے مجموعی طور پر تین ہزار 333 منصوبے بنائے گئے ہیں یا ان پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

سماجی تحفظ کے پروگراموں میں لوگوں کی شمولیت کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے اور 10 کروڑ سے زائد آبادی کی شمولیت کے لحاظ سے عالمی سطح پر پاکستان کا تیسرا نمبر ہے۔

عالمی بینک کے مطابق اس سلسلے میں صرف منتخب ممالک نے متاثر کن چھ ہندسوں کا ہدف حاصل کیا ہے۔ پاکستان کا احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ان میں سے ایک ہے۔ اس رپورٹ کے مرکزی مصنف عالمی بینک میں سماجی تحفظ کے شعبہ کے سربراہ یوگو جینٹیلینی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے احساس پروگرام کو سماجی تحفظ کے ان بین الاقوامی پروگراموں میں چوتھا درجہ حاصل ہے جنہوں نے منصوبہ بندی کے مقابلے میں عوامی کوریج کی شرح کے لحاظ سے بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کیا۔

سماجی تحفظ کے بیشتر اقدامات سماجی معاونت کے طور پر فراہم کئے جاتے ہیں، یہ 55 فیصد عالمی پروگراموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سماجی معاونت کے اقدامات میں نقد مالی معاونت ایک اہم ذریعہ ہے، 186 ممالک میں مجموعی طور پر نقد مالی معاونت کے 734 اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی یا ان پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ کم اور درمیانی آمدن والے ممالک کے زمرے میں سب سے زیادہ اخراجات منگولیا، زمبابوے، بولیویا اور پاکستان میں کئے گئے۔

رپورٹ کی ایک اہم خصوصیت ڈلیوری کے معاملات سے متعلق ہے، اس کے مطابق عالمی سطح پر نئے مستحقین کی نشاندہی اور ان کے اندراج کے چار بنیادی طریقہ کار موجود تھے۔ پہلے طریقہ کے مطابق گھرانے کو موجودہ سماجی رجسٹری کی فہرست میں شامل کرنا تھا۔

پاکستان نے غریب اور مستحق افراد کے اندراج کیلئے جدید طریقہ کار اپنایا اور مستحقیقن سے 8171 ایس ایم ایس شارٹ کوڈ سروس اور ویب پورٹل کے ذریعے درخواستیں طلب کی گئیں۔

اعدادو شمار کے تجزیہ، انفرادی قومی شناختی کارڈ نمبرز کے استعمال، قومی سماجی و معاشی رجسٹری، سفر، ٹیکس، بلنگ، اثاثوں کی ملکیت کا ڈیٹا اور سرکاری ملازمت کی حیثیت سے اہلیت کا اندازہ لگایا گیا۔

 یہ نظام اعدادوشمار سے چلنے والا، مکمل خودکار، قانون پر مبنی، شفاف اور سیاسی طور پر غیر جانبدار تھا اور ادائیگیوں کی باقاعدہ بائیومیڑک تصدیق کی گئی۔

احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت گزشتہ سال ایک کروڑ 50 لاکھ گھرانوں میں 12 ہزار روپے فی خاندان رقوم تقسیم کی گئیں جس کا مطلب ہے کہ دس کرڑ سے زائد افراد یا ملک کی آدھی آبادی کی مالی معاونت کی گئی۔

احساس ایمرجنسی کیش کیلئے تخفیفِ غربت کا نیا فریم ورک قائم کیا گیا، بالخصوص بائیومیٹرک کا نیا نظام، درخواست کیلئے ایس ایم ایس سروس اور ویلتھ پروفائلنگ کا بڑا طریقہ کار قائم کیا گیا۔

عالمی تجربے کے اشتراک کے لحاظ سے پاکستان کا معاملہ دیگر ممالک کیلئے مفید سبق فراہم کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فون، انٹرنیٹ، قومی شناختی کارڈ، تجارتی ادائیگیوں کے نظام کو ملا کر ایک جدید اور ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے تاکہ بحرانوں کے دوران ضرورت مندوں کی سماجی معاونت کی جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here