کراچی کے ڈائمنڈ کولیکشن جیولرز کی ملکیت بے نامی پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم

198

اسلام آباد: بے نامی زون تھری نے کراچی کے معروف جیولر ’ڈائمنڈ کلیکشن‘ کی مبینہ طور پر ملکیتی بے نامی جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔

بے نامی دار خواجہ کاشف حسن کے نام پر پلاٹ کی قانونی حیثیت بے نامی ٹرانزیکشنز ایکٹ (2017) کے نفاذ کے باوجود بھی تبدیل نہیں ہوئی۔

ذرائع نے بتایا کہ اینٹی بے نامی زون تھری نے پی ای سی ایچ کمرشل ایریا بلاک ٹو جمشید ٹائون میں پلاٹوں کی خریدوفروخت سے متعلق ریفرنس میں خواجہ کاشف حسن، ڈائمنڈ کلیکشن کے مالک حافظ محمد یوسف، ماجد اقبال (گلوبل اسٹیٹ ایجنسی)، اقبال غازی (عمران اسٹیٹ)، کنٹریکٹر محمد یوسف، زینک عابدین اور محمد یاسین کو نامزر کیا تھا۔

اینٹی بے نامی اتھارٹی نے 31 دسمبر 2020ء کو اپنے ایک حکم نامے میں پلاٹوں کی منتقلی کی ٹرانزیکشنز کو بے نامی ایکٹ 2017ء کے سیکشن 5(2) کے تحت کالعدم قرار دیا تھا۔

بعد ازاں اتھارٹی نے 18 جنوری 2021ء کو مذکورہ جائیداد کے بے نامی دار اور بینفشل اونر کو ان کے خلاف کیسز کی سماعت اور دفاع کا حق فراہم کرنے کیلئے نوٹسز جاری کیے۔

عدالتی بینچ نے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر ریمارکس دیے کہ پیچیدہ رئیل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز میں کئی اٹارنی، سب اٹارنی، ایسوسی ایٹس اور قرض دہندگان کی شناخت چھپائی گئی ہے جس کی وجہ سے اصل معاملات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی تک فروخت کیے گئے سات میں سے چار یونٹس بے نامی دار سے مبینہ بینیفشل اونر کنٹریکٹر محمد یوسف اور اس کے بیٹے محمد احمد رضا کو منتقل کیے گئے ہیں۔

اتھارٹی کے بیان کے مطابق مبینہ بے نامی دار آزادانہ طور پر اپنی ساکھ کو ثابت کرنے میں ناکام رہا،  ٹیکس ریکارڈ یا کسی اور مصدقہ ذرائع سے یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ بے نامی دار کے پاس ایسے منصوبے کیلئے مطلوبہ رقم موجود تھی۔

تاہم اس کا نام فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیے جانے کے امکانات واضح ہیں اور ان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، جبکہ بینیفشل اونرز حافظ محمد یوسف اور کنٹریکٹر محمد یوسف اس مبینہ لین دین کے مرکزی کردار ہیں۔

بقیہ تین خرید کنندگان فریق ثانی دکھائی دیتے ہیں جو اس جائیداد سے متعلق لا علم تھے۔ کیس کو مزید تحقیقات کے لیے کمشنر اینٹی بے نامی زون تھری کو بھیج دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here