مقامی پیداوار میں کمی، 9 ماہ میں ایک ارب 83 کروڑ ڈالر کی کپاس درآمد

113

لاہور: رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران کپاس کی درآمد میں 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مقامی پیداور میں واضح کمی اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کیلئے جولائی 2020ء سے لے کر مارچ 2021ء تک کے دوران پاکستان نے ایک ارب 83 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کپاس درآمد کی ہے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں ایک ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کپاس درآمد کی گئی تھی۔

مالی سال 2021ء کے 9 ماہ کے دوران کاٹن کا درآمدی بل مالی سال 2020ء کے مجموعی ایک ارب 70 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے متجاوز رہا جبکہ مالی سال 2019ء میں کاٹن کے درآمدی بل کا حجم ایک ارب 65 کروڑ ڈالر تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹیکسٹائل برآمدات میں 9 فیصد اضافہ، حجم 11 ارب 35 کروڑ ڈالر ریکارڈ

کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد کمی، ٹیکسٹائل برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ

جی ڈی پی میں 19 فیصد حصہ ڈالنے والی کپاس کی پیداوار 20 سال کی کم ترین سطح پر

اس دوران مقامی طور پر کپاس کی پیداوار میں تیزی سے کمی ہوئی اور 2012ء میں 14 ملین کپاس کی گانٹھوں کی پیداوار کے مقابلے میں 2020ء میں 35 فیصد کم ہو کر 5.6 ملین گانٹھوں پر آ گئی، کپاس کی پیداوار میں کمی نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی کارکردگی کو بہتر کرنے کی امید بھی کم کر دی ہے۔

رواں مالی سال کے 9 ماہ کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی مجموعی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اضافے سے 10 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ گززشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 10 ارب 26 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا۔

کپاس کی مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے رواں سال کے آخر تک کاٹن کی مجموعی برآمدات اڑھائی سے تین ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ سید فخر امام کا کہنا ہے کہ حکومت کپاس کے بیج پر سبسڈی دے گی، ملک میں 40 ہزار ٹن کپاس کے بیج کی ضرورت ہے، کاشت کاروں کو روکنا ہے کہ وہ کپاس کے علاوہ دوسری فصلوں پر منتقل نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں کپاس کا حصہ 19.3 فیصد ہے، پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ انڈیا ہائبرڈ کاٹن پیدا کر رہا ہے لیکن ہمارے پاس ہائبرڈ کاٹن کاشت نہیں ہو رہی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کیلئے کاٹن سب سے بہتر ہے، تین مرتبہ کپاس کی امدادی قیمت مقرر کرنے کیلئے کوشش کی ہے۔ پنجاب میں 38 لاکھ ایکڑ اور سندھ میں 16 لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی، سندھ میں نصف کپاس کی فصل تباہ ہو گئی تھی۔ پنجاب میں کپاس میں وائٹ فلائی کو کنٹرول نہیں کر سکے، پاکستان نے آج تک کیمیکل بنانے کی بات نہیں کی جو بڑا چیلنج ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here