وفاقی سیکریٹریٹ کے اعلیٰ پر تکنیکی ماہرین کو بھرتی کرنے کا فیصلہ

نجی شعبے سے پی ایچ ڈی یا بہترین یونیورسٹیوں سے ماسٹرز ڈگری اور اپنے میدان میں تجربہ کے حامل افراد کو اعلیٰ عہدوں پر پانچ سالہ مدت کیلئے تعینات کیا جائے گا

326

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نجی سیکٹر کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں سے سیکریٹیریٹ کے اعلیٰ عہدوں کے لیے تکنیکی ماہرین کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

حکام نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی اور ماسٹرز ڈگری ہولڈرز اور مطلوبہ تجربہ کے حامل افراد کو حکومت نجی سیکٹر کے ساتھ حکومتی محکموں سے 5 سال کی مدت کے لیے تکنیکی ماہرین بھرتی کرے گی۔

رپورٹس کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات میں محتاط غوروخوض کے بعد کابینہ نے خدمت انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو بیرونی لوگوں کے ساتھ ایم پی سکیلز کے لیے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت میں 29 ہزار افسران کی مجموعی آسامیوں میں سے اس وقت صرف 108 آسامیوں کا تعلق ایم پی سکیلز سے ہے جو مجموعی طور پر 0.37 فیصد کا ایک منفی حصہ ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ نجی سیکٹر کے ماہرین کی اجازت سے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کی فراہمی اور ایک سطح کا پلیٹ فارم مہیا ہو گا جو مسابقی اور آزاد عمل کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے کے پیچھے منطق کی وضاحت کرتے ہوئے معاونِ خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب نے کہا کہ “ہم اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران کو اعلیٰ جامعات سے ماسٹرز اور پی ایچ ڈیز کے ڈگری ہولڈرز کے ساتھ ڈونر ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن ہم انہیں اپنی صلاحیت کو اپ گریڈ کرنے کے لیے انکی مہارت استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے”۔

انہوں نے کہا کہ “سرکاری ملازمین کو حکومت سے باہر دوسرے ماہرین کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے اور سول سروینٹس کے لیے کوٹہ یا ریزرویشن نہیں ہے”۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ “پی ایچ ڈی، ماسٹرز اور فیلڈ میں مطلوبہ تجربے کے بغیر عام لوگ درخواست دینے کے اہل نہیں”۔

ارباب نے حکومت میں قابل افراد کی قلت کی وجہ سے انہیں برقرار رکھنے کے لیے جدید طریقے معلوم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here