کابینہ اجلاس: الیکٹرانک ووٹنگ، اووسیز پاکستانیوں کے حقِ رائے دہی سے متعلق دو آرڈیننس منظور

سندھ میں ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے فوج تعینات کرنے، عید الفطر پر قیدیوں کی سزائوں میں 90 دن معافی، آئی پی پیز کو 40 فیصد ادائیگی اور پاک سعودی سپریم کوآرڈی نیشن کمیٹی کو فعال کرنے کا فیصلہ

219
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور اووسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی سہولت کیلئے اختیارات دینے سے متعلق دو آرڈیننس کی منظوری دے دی۔

منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے آغاز میں ہدایت دی کہ بوڑھے ماں باپ کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کے عمل کو تیز کیا جائے۔

وزیراعظم کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی، عید کے آخر تک مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ماڈل (پروٹوٹائپ مکمل طور پر تیار کر لیا جائے گا۔

مشیر برائے پارلیمانی امور نے اجلاس کو بتایا کہ الیکشن کمیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے انتخابات کرانے پر تیار ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کی جا رہی ہے۔

انصاف کی فراہمی کیلئے سول پروسیجر کوڈ (سی پی سی) میں اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم نے صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے حکومت پنجاب کو بھی ہدایت کی کہ اس حوالے سے کوششیں تیز کی جائیں تا کہ سہل اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی ہو سکے۔

معاون خصوصی برائے صحت نے کابینہ کو کورونا کی صورت حال پر بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے میں کورونا کے پھیلاؤ میں ٹھہراؤ کا رجحان دیکھا گیا ہے جو کسی حد تک تسلی بخش ہے تاہم اس حوالے سے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد اور این پی آئیز پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت وفاقی دارالحکومت میں این پی آئی پر عمل درآمد کی شرح 88 فیصد اور سندھ میں 45 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ جون جولائی تک اڑھائی کروڑ افراد کو ویکسین لگانے کا عمل مکمل ہو جائے۔

وفاقی کابینہ نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر اس ادارے کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے 100 روپے کے یادگاری سکے کے اجراء کی منظوری دی۔ این ای ڈی یونیورسٹی کا قیام 1921ء میں عمل میں آیا تھا اور اب تک یہ ادارہ 60 ہزار سے زائد گریجوایٹس پیدا کر چکا ہے جو اندرون اور بیرون ممالک میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

کابینہ نے پیسے کا سراغ لگانے کے حوالے سے نیشنل پالیسی بیان کی بھی منظوری دی، ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ناجائز طریقے سے بنائے جانے والے پیسے کے حوالے سے قانونی اور انتظامی اقدامات کو مزید موثر بنانا ہے۔

کابینہ نے بریگیڈئیر عتیق احمد کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بورڈ میں بطور ممبر کنٹرول، احسن علی چغتائی کو نیشنل بینک آف پاکستان کے بورڈ میں بطور پرائیویٹ ممبر تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ محمد سہیل راجپوت کی جگہ ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کی بطور سرکاری ممبر تبدیلی کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تنظیم نو کی منظوری دیدی۔ ان ممبران کی مدت تعیناتی دو سال (برائے سال 2021-23ء) کیلئے ہو گی۔

کابینہ نے سعودی پاکستان سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کے قیام کیلئے معاہدے کی منظوری دیدی، کونسل کے قیام کا فیصلہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان 2018ء میں کیا گیا تھا، فروری 2019ء میں سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے پر اس میں مزید پیشرفت ہوئی تھی۔

اس کونسل کے قیام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور ترقیاتی اہداف کے حوالہ سے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے اعلیٰ سطح کے پلیٹ فارم کا قیام ہے۔  وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد اس کونسل کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

کابینہ نے ماحولیات کے شعبہ میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مفاہمت کی یادداشت کے مجوزہ مسودے کی منظوری دیدی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد ماحولیات کے شعبہ میں درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

وفاقی کابینہ نے عیدالفطر کے موقع پر مختلف مقدمات کے قیدیوں کی سزائوں میں 90 دن کمی کی سفارش منظور کر لی۔ اس حوالہ سے وزیراعظم کی جانب سے صدر مملکت کو ایڈوائس بھیجی جائے گی، تاہم یہ سہولت قتل، جاسوسی، ریاست مخالف سرگرمیوں، فرقہ پرستی، زنا، ڈکیتی، اغواء اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں سزا یافتہ قیدیوں کو میسر نہیں ہو گی۔

کابینہ نے دیگر تمام قیدیوں کی سزائوں میں بھی 90 دنوں کی کمی کی سفارش کی ہے تاہم سزائوں میں یہ کمی سنگین جرائم میں سزا یافتہ قیدیوں کو حاصل نہیں ہو گی۔ سزائوں میں خصوصی کمی ان قیدیوں کو دی جائے گی جنہوں نے دوتہائی قید کاٹ لی ہے۔

اسی طرح 65 سال یا اس سے زائد عمر کے ان مرد قیدیوں اور 60 سالہ خواتین قیدی جو اپنی سزا کا کم از کم ایک تہائی حصہ کاٹ چکی ہوں ان کو بھی 90 دنوں کی خصوصی رعایت میسر آئے گی۔ کابینہ نے ان خاتون قیدیوں کی سزائوں میں بھی 90 دنوں کی خصوصی کمی کی سفارش کی ہے جو اپنے بچوں کے ہمراہ سزا کاٹ رہی ہیں۔

اسی طرح 18 سال سے کم قیدیوں کو بھی یہ خصوصی رعایت دی جانے کی سفارش کی گئی ہے بشرطیکہ ایسے قیدی سنگین جرائم میں ملوث نہ ہوں اور اپنی قید کی مدت کا کم از کم ایک تہائی حصہ کاٹ چکے ہوں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے عید کے موقع پر محض 30 دنوں کی رعایت تجویز کی گئی تھی تاہم کابینہ نے یہ مدت بڑھا کر 90 دن کرنے کی منظوری دیدی۔

اجلاس میں کورونا کی روک تھام کے پیش نظر حکومت سندھ کی درخواست پر فوج کی تعیناتی کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔

وفاقی کابینہ نے امیگریشن آرڈیننس 1979ء کے تحت اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر لائسنسوں کی تنسیخ کے حوالہ سے اپیلوں کی سماعت کیلئے کابینہ ممبران (وزیر برائے تعلیم اور وزیر برائے انسانی حقوق) پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی منظوری دی، یہ کمیٹی اپیلوں کے حوالہ سے سماعت کرے گی اور اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔

پاکستان ریلویز کے آپریشنز میں نجی شعبہ کی شمولیت کو یقینی بنانے اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے حوالہ سے وفاقی کابینہ نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے نجی شعبہ کی جانب سے دی جانے والی بولیوں (بڈز) پر 10 فیصد ایڈوانس وِدہولڈنگ ٹیکس کے خاتمہ کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے سیّد نجم سعید کو ریلوے کنسٹرکشن پاکستان لمیٹڈ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔

اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 8 اپریل 2021ء اور 15 اپریل 2021ء کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ ان فیصلوں میں ایک اہم فیصلہ بین الوزارتی معاملات خصوصاً کارسرکار کو مقررہ مدت میں سرانجام دینے اور اس حوالہ سے ٹائم لائن کی تعیناتی ہے۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 28 اپریل 2021ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی منظوری دی، ان فیصلوں میں مختلف وزارتوں کی تکنیکی اضافی گرانٹس کی درخواستوں پر فیصلے اور آئی پی پیز کو نئے انتظامات کے تحت ادائیگیوں کی پہلی قسط کی ادائیگی کی منظوری شامل تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here