پہلی سہ ماہی میں چین کے صنعتی شعبے کے منافع میں 137 فیصد اضافہ

162

بیجنگ: چین کے صنعتی شعبے کے منافع میں رواں سال کی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر 137 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ ملکی مصنوعات کی پیداوار اور فروخت میں اضافے سے اقتصادی شرح نمو کا بڑھنا ہے۔

چین کے ادارہ برائے شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2020ء کی پہلی ششماہی میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی چینی معیشت میں اب بہتری کا سفر تسلسل کے ساتھ جاری ہے جس کی وجہ سے چین کی صنعتی پیداوار میں مارچ 2021ء کے دوران سالانہ بنیاد پر 14.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ پہلی سہ ماہی کے دوران صنعتی پیداوار کی مجموعی شرح نمو 24.5 فیصد رہی۔

 یوں پیداوار میں بہتری کی وجہ سے سالانہ 20 ملین یوان یعنی 3.08 ملین ڈالر سے زیادہ کاروباری حجم کے حامل صنعتی اداروں کا خالص منافع جنوری سے مارچ کے عرصے میں 1.83 کھرب یوان رہا جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 137 فیصد جبکہ 2019ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 50.2 فیصد زیادہ ہے۔

صرف مارچ 2021$ء کے دوران چین کے بڑے صنعتی اداروں کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 92.3 فیصد بڑھ کر 711.18 ارب یوان رہا۔

یہ بھی پڑھیے:

رواں سال چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں 32  فیصد کمی ریکارڈ

سال 2020ء: وبا کے باوجود چین سب سے زیادہ غیر ملکی سرمائے کا حامل ملک بن گیا

رواں سال 2021ء کے ابتدائی دوماہ (جنوری، فروری) کے دوران چین کی ریٹیل مارکیٹ میں سالانہ بنیاد پر 34.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پہلی سہ ماہی کے دوران ریٹیل سیل کی مجموعی شرح نمو 33.9 فیصد رہی۔

واضح رہے کہ  چین کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں مالی سال 2021ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر 18.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ کورونا وائرس کی شدت میں کمی کے بعد اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔

چینی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حکومت کے انسداد کورونا وائرس اقدامات کے باعث اقتصادی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہو رہی ہیں، رواں سال پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران جی ڈی پی میں 18.3 فیصد اضافہ ہوا ہے جو دنیا بھر میں ایک ریکارڈ ہے۔

یاد رہے کہ چین دنیا کی واحد بڑی معیشت ہے جہاں 2020ء کے دوران کورونا وائرس کے باوجود اس کی جی ڈی پی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کی وجہ سے چین میں بیرونی سرمایہ کاری میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے اور چین کی وزارت تجارت کے مطابق مالی سال 2021ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران چین میں حقیقی غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 302.47  ارب یوان ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 39.9 فیصد زیادہ ہے۔

چینی وزارت تجارت کے مطابق ملک میں غیرملکی سرمائے سے قائم نئے کاروباری اداروں کی تعداد 10 ہزار 263 رہی جو پچھلے سال کی اسی مدت سے 47.8 فیصد زیا دہ ہے۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک کی جانب سے چین میں سرمایہ کاری میں 58.2 فیصد، آسیان کے رکن ممالک کی جانب سے 60 فیصد اور یورپی یونین کی جانب سے سرمایہ کاری میں 7.5 فیصد اضافہ ہوا۔

وزارت تجارت کے ترجمان گائو فنگ کا کہنا تھا کہ پہلی سہ ماہی میں چین اور امریکہ کی دو طرفہ تجارت میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے جس میں چین کی امریکہ کو برآمدات میں62.7 فیصد جبکہ امریکہ سے چین کی درآمدات میں 57.9 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو باہمی احترام اور مساوات کی بنیاد پر اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here