ایف بی آر: دس ماہ میں 14 فیصد اضافے سے 3780 ارب روپے ٹیکس جمع

جولائی 2020ء سے لے کر اپریل 2021ء تک 3637 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے 143 ارب زائد ٹیکس آمدن، انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 29 لاکھ سے متجاوز

425

اسلام آباد: فیڈرل بور ڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2020-21ء کے پہلے دس ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران اپنے مقررہ ہدف سے 143 ارب روپے زائد ٹیکس جمع کر لیا۔

ایف بی آر نے رواں مالی سال کے حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق جولائی 2020ء سے لے کر اپریل 2021ء تک دس ماہ کے دوران 3780 ارب روپے کا مجموعی ٹیکس جمع کیا گیا جو اس عرصہ کے مقرر کردہ ہدف 3637 ارب روپے سے 143 ارب زائد ہے۔

اس طرح ایف بی آر نے رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال 2019-20ء کی اسی مدت کے دوران حاصل کردہ مجموعی محصولات 3320 ارب روپے کے مقابلے میں 14 فیصد اضافی ٹیکس جمع کیا۔

ایف بی آر نے اپریل 2021ء کے میں 384 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جبکہ مقررہ ہدف 242 ارب روپے تھا۔ اس طرح ہدف کے مقابلے میں 159 فیصد اور اپریل 2020ء کے دوران جمع کردہ 240 ارب روپے کے مقابلے میں 57 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔

پچھلے سال کے مقابلے میں اپریل کے ماہ میں 57 فیصد اضافہ تاریخی ہے جو مارچ میں حاصل کردہ 46 فیصد اضافہ سے بھی زائد ہے۔ ماہ اپریل کے آخری دن کے اختتام تک اور بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حاصل ہونے والی وصولیوں کے بعد محصولات کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں گراس ریونیو پچھلے سال کے 3438 ارب روپے کے مقابلے میں 3976 ارب روپے رہا اور 16 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔

رواں مالی سال اب تک 195 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے جا چکے ہیں جو پچھلے سال اس عرصہ میں 118 ارب روپے تھے۔ اِس سال اب تک ریفنڈز کے اجراء میں 65 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ریونیو کے حصول میں بہترین کارکردگی ملکی معاشی سرگرمیوں میں تیزی کی نشاندہی کرتی ہے حالانکہ کووڈ 19 کی تیسری لہر کا بھی سامنا ہے۔ ماہ اپریل کے آخری ایام میں ریونیو کولیکشن سست رہا جس کی وجہ وبا کے پھیلاو کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔ کورونا وبا کا پھیلائو مئی اور جون کے ریونیو کولیکشن پر بھی منفی اثرات ڈالے گا۔

29 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے داخل

یکم مئی 2021ء تک ٹیکس سال 2020ء کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 29 لاکھ ہو چکی ہے جو کہ پچھلے سال اس عرصہ تک 26 لاکھ تھی اس طرح ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ٹیکس گوشوارں کے ساتھ دس ماہ کے دوران ادا شدہ ٹیکس 50.6 ارب روپے رہا جو پچھلے سال اس عرصہ میں 33.1 ارب روپے تھا۔ اس طرح رواں سال ٹیکس ادائیگی میں 53 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔

ایف بی آر نے پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے والے بڑے ریٹیلرز کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں جس کے مطابق دس ہزار 583 سیل مشینیں پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک کی جا چکی ہیں۔

606 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی جمع

پاکستان کسٹمز نے رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں 606 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل کی جبکہ مقرر کردہ ہدف 507 ارب روپے تھا۔ اس طرح ہدف سے 99 ارب روپے اور 20 فیصد زائد حاصل کئے۔

رواں مالی سال اپریل کے ماہ میں 65 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جبکہ مقرر کردہ ہدف 59 ارب روپے تھا۔ اس طرح 10 فیصد زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی۔

یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال 88 ارب روپے زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جو کہ 17 فیصد زائد ہے حالانکہ کورونا کے باعث معاشی سست روی بھی جاری ہے۔

رواں مالی سال اپریل میں 4.54 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں جبکہ پچھلے سال اپریل میں 3.43 ارب روپے کی اشیاء ضبط ہوئی تھی۔

اس طرح ضبط شدہ اشیاء میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں 48.55 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں جو کہ پچھلے سال 31 ارب روپے کی تھی، اس طرح ضبطگی میں 56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم کی تعریف

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے رواں سال اپریل میں ٹیکس وصولی میں 57 فیصد اضافے پر ایف بی آر کی کوششوں کو سراہا ہے۔

ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال اپریل میں 384 ارب روپے کے محصولات جمع کئے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال اپریل میں 240 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2020 سے اپریل 2021 تک 3780 ارب روپے کے محصولات اکھٹے ہوئے ہیں جو گزشتہ سال کے اس عرصہ کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ریکارڈ ٹیکس وصولی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری پالیسیوں سے معیشت کی وسیع البنیاد بحالی میں مدد ملی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here