شدت پسندی سے مبنی مواد نہ ہٹانے پر سوشل میڈیا کمپنی کو بین الاقوامی آمدن کا 4 فیصد جرمانہ ہو گا

یورپی یونین کے نئے قانون کے مطابق شدت پسندی یا دہشتگردی پر مبنی مواد کی شناخت ہونے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کیلئے اسے ایک گھنٹے میں ہٹانا لازم ہو گا، یونین سے باہر کے ملک کی شکایت پر بھی عمل کرنا لازمی ہو گا

102

برسلز: یورپی یونین کی پارلیمان نے شدت پسندی یا دہشت گردی کے زمرے میں آنے والے آن لائن مواد کو فوری طور ہٹانے کے قانون کی منظوری دے دی۔

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی پارلیمان نے گزشتہ روز ایک ایسے قانون کی منظوری دی جس سے آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے ایسے تمام مواد کو فوری طور پر ہٹانا لازمی ہو گا جو شدت پسندی یا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہو۔ اگر کوئی پلیٹ فارم ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے اپنی بین الاقوامی آمدن کا چار فیصد تک کا جرمانے کی صورت ادا کرنا ہو گا۔

یورپی یونین کے نئے قانون کے مطابق جب شدت پسندی یا دہشتگردی پر مبنی مواد کی شناخت ہو جائے گی تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کیلئے لازم ہو گا کہ ایک گھنٹے کے اندر ہی اسے ہٹائے، اس قانون کے مطابق اگر یورپی یونین سے باہر کا ملک بھی ایسی کوئی شکایت کرے تو اس پر بھی عمل کرنا لازمی ہو گا۔

البتہ جس ملک میں ایسا ہوا ہو گا اسے اس بات کا تجزیہ کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کا وقت ملے گا کہ آیا وہ مواد واقعی شدت پسندی یا دہشت گردی کے دائرے میں آتا ہے، کیا اس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور کیا واقعی وہ شکایت درست ہے یا نہیں۔

اس قانون کے تحت تعلیم، صحافت، کسی خاص فن پارے اور تحقیق کے مقصد سے اگر کوئی ایسا مواد ہے تو اسے استثنیٰ بھی حاصل ہو گا۔ قانون میں چھوٹی اور غیرپیشہ ورانہ کمپنیوں کو بھی بعض رعایتیں دی گئی ہیں۔

یورپی یونین کے رکن ممالک نے اس حوالے سے ایک مسودے پر گزشتہ دسمبر میں اتفاق کیا تھا جس کی تمام ارکان پارلیمان نے متفقہ طور پر حمایت کی اور اسے بغیر کسی ترمیم کے ووٹنگ کے بغیر ہی منظور کر لیا گیا۔

یورپی یونین میں داخلی امور کے کمشنر ایلوا جانسن نے اس بل کو ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ضابطے کی بدولت دہشت گردوں کی جانب سے آن لائن بھرتی کرنے، حملوں کیلئے آن لائن  اشتعال دلانے اور اپنی زیادتیوں کی مدح سرائی کیلئے انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے میں مزید مشکل ہو جائے گی۔

پولینڈ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان پیٹرک جاکی نے کہا کہ یہ قانون دہشت گردی کے خلاف ایک اہم ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ شدت پسند اپنے پیغام کی تشہیر کے لیے بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں ایک طرف جہاں اظہار رائے کی آزادی کا خیال رکھا گیا ہے وہیں اس سے سائبر سکیورٹی بھی بہتر ہو گی، گوگل اور فیس بک جیسی کمپنیوں نے بھی کہا ہے کہ وہ پہلے سے اس پر عمل پیرا ہیں اور پتہ چلنے کی صورت میں اس سے پہلے ایسے مواد کو ہٹا دیا جاتا ہے کہ کوئی اس تک رسائی حاصل کر سکے یا پھر اس کے بارے میں کسی کو کوئی شکایت کا موقع ملے۔

یورپی پارلیمان کے اس نئے قانون کے تحت آن لائن پلیٹ فارم آپریٹرز کو تمام مواد کی نہ تو نگرانی کرنے کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی ایسے کسی فلٹر کو لگانے کی ضرورت ہے تاہم جب بھی اس طرح کے مواد کے بارے میں آگاہ کیا جائے تو انہیں اسے پر عمل کرتے ہوئے اسے ہٹانا ہو گا۔

دوسری طرف انسانی حقوق کے مختلف گروپوں، ایمنسٹی انٹر نیشنل اور رپورٹرز وِد آئوٹ بارڈرز سمیت سرکردہ غیر سرکاری تنظیموں نے اس قانون پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اظہار رائے کی آزادی بُری طرح متاثر ہو گی۔

اب اس قانون کو یورپی یونین کے سرکاری گزٹ میں شائع کیا جائے گا اور آئندہ ماہ سے رکن ممالک اسے اپنے قومی قوانین میں شامل کرنا شروع کریں گے، تاہم مکمل طور پر اس پر عمل درآمد تقریباََ ایک برس بعد ہی شروع ہو پائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here