آئی پی پیز کو 89.86 ارب روپے کی پہلی قسط کے اجراء کیلئے کمیٹی قائم

وزیر خزانہ کی صدارت میں کمیٹی آئی پی پیز کو ادائیگیوں سے متعلق ٹھوس تجاویز اور سفارشات پیش کرے گی، مشیر تجارت کی زیر صدارت ایک کمیٹی برآمدی صنعتوں کیلئے بجلی پر سبسڈی کا جائزہ لے گی

276
اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں کی پہلی قسط کے اجراء کے ضمن میں وزیر خزانہ کی قیادت میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیرخزانہ و محصولات شوکت ترین کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے مارچ 2020ء میں برآمدی صنعتوں کو 100 فیصد آر ایل این جی کی فراہمی پر سبسڈی جاری کرنے سے متعلق سمری پیش کی گئی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مذکورہ سمری کی منظوری دے دی اور مشیر تجارت عبدالرزاق دائود کی صدارت میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی جو برآمدی صنعتوں کیلئے بجلی کی مد میں سبسڈی کا جائزہ لے گی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور اور دیگرمتعلقہ سٹیک ہولڈرز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ کمیٹی بجلی سے متعلق سبسڈی کے بارے میں جامع رپورٹ ای سی سی میں پیش کرے گی۔

اجلاس میں آئی پی پیز کو 89.86 ارب روپے کی پہلی قسط کے اجراء کے ضمن میں پاور ڈویژن کی ایک اور سمری پیش کی گئی، اس سمری کا جائزہ لینے کیلئے وزیر خزانہ کی قیادت میں ذیلی کمیٹی قائم کی گئی جس کے دیگر ارکان میں پیٹرولیم اور توانائی کے وزیر اور سیکرٹریز شامل ہیں۔ کمیٹی ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں ٹھوس تجاویز اور سفارشات پیش کرے گی جس کے بعد اس کی منظوری دی جائے گی۔

اجلاس میں وزارت قانون و انصاف کیلئے دو کروڑ 27 لاکھ روپے، وزارت انسانی حقوق کیلئے ایک کروڑ 25 ہزار روپے، وزارت ہائوسنگ کیلئے 72 لاکھ روپے اور 26 کروڑ 20 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔

ای سی سی کے اجلاس میں وفاقی وزراء شیخ رشید، عمر ایوب، حماد اظہر، محمد میاں سومرو، اعظم سواتی، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی پاور تابش گوہر، ڈاکٹر وقار مسعود، وفاقی سیکرٹریز، سرمایہ کاری بورڈ، ای ای سی پی کے چئیرمین، و دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی،  گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس میں شریک ہوئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here