سمگلنگ کیخلاف کارروائیاں، 9 ماہ میں 45 ارب روپے کی غیرقانونی مصنوعات ضبط

مارچ 2021ء کے دوران تین ارب 63 کروڑ 40 لاکھ روپے کی سگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں جبکہ مارچ 2020ء میں دو ارب 74 کروڑ روپے کی اشیاء ضبط کی گئی تھیں: ترجمان ایف بی آر  

139

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 45 ارب 98 کروڑ روپے کی غیرقانونی مصنوعات ضبط کیں۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے وژن اور چئیرمین ایف بی آر کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر میں سمگلنگ کے خلاف پاکستان کسٹمز اور دیگر ذیلی محکموں کی کارروائیاں جاری ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ضبط شدہ اشیاء کی شرح میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: تیل سمگلنگ: خزانے کو سالانہ 240 ارب کا نقصان، نجی ریفائنری بھی دھندے میں ملوث

مالی سال 2020-21ء کی ابتدائی تین سہ ماہیوں (جولائی تا مارچ) کے دوران 45 ارب 98 کروڑ روپے مالیت کی اشیاء ضبط کی گئیں جبکہ گزشتہ سال 2019-20ء کے اسی عرصہ میں 27 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کی اشیاء ضبط کی گئیں تھیں۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق مارچ 2021ء کے دوران سمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں گزشتہ سال مارچ کے مقابلہ میں 39 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کسٹمز نے مارچ میں تین ارب 63 کروڑ 40 لاکھ روپے کی سگل شدہ اشیاء ضبط کی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں دو ارب 74 کروڑ روپے کی اشیاء ضبط کی گئی تھیں۔

ترجمان نے بتایا کہ اِن لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک ملک بھر میں غیر قانونی سمگل شدہ اور نان ڈیو ٹی پیڈ سگریٹ کے خلاف بھی بھرپور انداز میں کارروائیاں کر رہا ہے۔

ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کی ٹیمیں پورے ملک میں اپنے ریجنل کو آرڈینیٹرز اور سینٹرل کوآرڈینیٹر انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن اسلام آباد کی نگرانی میں موثر طریقے سے سر گرم ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ایرانی پٹرول اور ڈیزل سمگل کر کے لایا جاتا ہے، پٹرولیم انکوائری کمیشن کی حال ہی سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق سمگل شدہ ایرانی تیل کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو سالانہ 240 ارب روپے کا  نقصان پہنچتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ایرانی تیل کی سمگلنگ بلوچستان میں تافتان بارڈر کے ذریعے کی جاتی ہے اور سرکاری کمپنی پی ایس او سمیت دیگر کمپنیوں کے پٹرول پمپوں پر یہ سمگل شدہ تیل فروخت کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سمندر اور زمینی راستے سے قیمتی کپڑا، سونا، منشیات وغیرہ بھی بھاری مقدار میں سمگل کر کے لائی جاتی ہیں جبکہ قیمتی گاڑیوں کی سمگلنگ سے بھی قومی خزانے کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here