سٹیل مافیا قومی خزانے کو سالانہ 15 ارب روپے کا نقصان پہنچانے لگا

امپورٹ پالیسی اور کسٹمز رولز میں خلاء کی وجہ سے درآمدکنندگان اصل سٹیل کو بھی سکریپ کے کھاتے میں ڈال کر کلئیرنس کرانے لگے، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اربوں کی ٹیکس کا انکشاف

274

اسلام آباد: امپورٹ پالیسی اور کسٹمز رولز میں خلاء کی وجہ سے سٹیل مافیا بڑے پیمانے پر خالص سٹیل کو سکریپ ظاہر کرکے قومی خزانے کو سالانہ 10 سے 15 ارب روپے نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔ 

پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز (پی اے ایل ایس پی) کی طرف سے وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ برائے ریونیو کو بھیجے گئے خط کے مطابق سٹیل مافیا یہ کام بِنا کسی رکاوٹ کے گزشتہ پانچ سے سات سال سے کر رہے ہیں۔

پی اے ایل ایس پی نے افسوس سے کہا کہ “گزشتہ پانچ سالوں سے زائد سٹیل سیکٹر اس معاملے کو وزارتِ تجارت کو اس اقدام کو روکنے کے پیش نظر آئی پی او کی متعلقہ شِقوں میں ترامیم کی تجویز کر رہی ہے۔ تاہم ہماری درخواستوں پر کان نہیں دھرے گئے اور وزارت نے کارروائی کرنے سے انکار کیا”۔

سٹیل انڈسٹری کے مطابق گزشتہ مالی سال 2020-21 کی بجٹ تجاویز میں ایف بی آر حکام نے بندرگاہوں پر سٹیل کی تخفیف کی اجازت نہ دینے کے لیے کسٹمز قوانین میں ترمیم کی درخواست کی تھی۔

ایف بی آر کی ٹیکنیکل کمیٹی کی طرف سے سٹیل سیکٹر کے مؤقف کی حمایت بھی کی گئی تھی اور ایف بی آر کی طرف سے اسکی ویب سائٹ پر ایک سرکلر جاری کیا گیا اور سٹیل سیکٹر میں تمام بڑی ٹریڈ باڈیز نے ترمیم کی حمایت بھی کی تھی۔

تاہم ذاتی مفادات اور کرایہ کے متلاشی کے دباؤ کی وجہ سے سرکلر جاری نہ کیا جا سکا۔ ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ “جب ہم نے وجوہات پوچھیں تو ہمیں بتایا گیا کہ سٹیل میٹیریل کی امپورٹرز لابی کے شدید دباؤ کی وجہ سے معاملہ کو وزارتِ تجارت کی طرف بھیجا گیا”۔

ایسوسی ایشن نے ایف بی آر حکام سے سرکلر بغیر کسی تاخیر کے جاری کرنے کی بھی درخواست کی کیونکہ اس کے اجراء سے بجٹ پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا آمدن کے خسارے کو پرکھنا اور غیرمعیاری خام مال کی درآمد پر قابو پانا ایک انتظامی معاملہ ہے جس کی پی ایس کیو سی اے ایکٹ کے تحت اجازت نہیں ہے۔

مسئلہ چونکہ قومی سطح پر اہمیت کا حامل ہے اس لیے سٹیل انڈسٹری نے وزارتِ تجارت اور ایف بی آر کو میرٹ پر مسئلہ حل کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ اگر معاملے کو حل نہ کیا گیا تو یہ سٹیل انڈسٹری کی عدم صنعتکاری کی وجہ بنے گا۔

یہاں یہ یاد رہے کہ اکتوبر 2019 میں ایران سے آنے والے بڑے پیمانے کے نئے سٹیل کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا، ایف بی آر کے کسٹمز حکام نے کوئٹہ میں کسٹمز حکام کو معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی تھی اور ایران سے غیرقانونی سٹیل منگوانے کے عمل کو روکنے کی سفارش کی تھی۔

جس کے نتیجے میں حکام نے جلد ہی ایران سے آنے والے تمام ٹرکوں کو روک دیا تھا۔ تاہم کسٹمز حکام کے اس اقدام کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ کی طرف سے حکمِ امتناع جاری کیا گیا تھا۔

2020 کے آغاز میں ایف بی آر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا جسے پہلی سماعت میں ہی مسترد کر دیا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ کی طرف سے دوبارہ سماعت نہیں کی گئی۔

سٹیل کو سکریپ کے طور پر ظاہر کرنے کا مسئلہ نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ٹیکس ادا کرنے والے سٹیل مینوفیکچررز کو بھی تباہ کر رہا ہے۔ شعبہ پاکستان کو سٹیل برآمد کرنے والا ملک بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here