9 ماہ میں تیل کے درآمدی بل میں 15 فیصد کمی، ایک ارب 34 کروڑ ڈالر کی بچت

جولائی 2020ء سے مارچ 2021ء کے دوران خام پٹرولیم کی درآمدات میں 42 کروڑ 92 لاکھ 33 ہزار ڈالر، ایل این جی کی درآمدات میں 50 کروڑ 47 لاکھ 70 ہزار کا زرمبادلہ بچایا گیا

328

اسلام آباد: رواں مالی سال 2020-21ء کے پہلے 9 ماہ کے دوران پاکستان کے تیل کے درآمدی بل میں 15.3 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2020ء سے مارچ 2021ء کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات سات ارب 55 کروڑ 39 لاکھ 12 ہزار ڈالر تک کم ہو گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں درآمدات کا حجم آٹھ ارب 90 کروڑ چھ لاکھ 22 ہزار ڈالر رہا تھا۔

اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران تیل کی درآمدات میں ایک ارب 34 کروڑ 67 لاکھ 10 ہزار ڈالر یعنی 15 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2020-21ء کی پہلی تین سہ ماہیوں کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی اسی مدت کے دوران خام پٹرولیم کی درآمدات میں 17.50 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ادارہ برائے شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے جولائی 2020ء سے مارچ 2021ء کے دوران خام پٹرول کی درآمدات کا حجم دو ارب دو کروڑ 33 لاکھ ڈالر ڈالر تک کم ہو گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران ان درآمدات کا حجم دو ارب 45 کروڑ 25 لاکھ 95 ہزار ڈالر رہا تھا۔

اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں خام پٹرولیم کی قومی درآمدات میں 42 کروڑ 92 لاکھ 33 ہزار ڈالر یعنی 17.50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح جاری مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات 22.61 فیصد کم ہو گئیں۔ ادارہ برائے شماریات کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2020ء سے مارچ 2021ء کے دوران ایل این جی درآمدات کا حجم ایک ارب 73 کروڑ 25 لاکھ 18 ہزار ڈالر تک کم ہو گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں ایل این جی درآمدات کا حجم دو ارب 23 کروڑ 72 لاکھ 55 ہزار ڈالر رہا تھا۔

اس طرح گزشتہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی اسی مدت کے دوران ایل این جی کی قومی درآمدات میں 50 کروڑ 47 لاکھ 70 ہزار ڈالر یعنی 22.61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here