نیب نے کرپشن کے 4 ریفرنس دائر کرنے، 12 انکوائریز کی منظوری دیدی

سابق سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ (سندھ) غلام مصطفی پھل، سابق چئیرمین سٹیل ملز معین آفتاب شیخ اور دیگر ملزمان کے خلاف بدعنوانی سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزامات پر ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیے جائیں گے

334

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی کے چار ریفرنس دائر کرنے، 12 انکوائریز اور پانچ انویسٹی گیشنز کی منظوری دے دی۔

ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی، ڈی جی آپریشنز نیب، ڈی جی نیب راولپنڈی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ نے سابق سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ (سندھ) غلام مصطفی پھل اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی، ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ضلع ملیر میں سرکاری اراضی الاٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو 12 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھیے:

نیب نے چئیرمین شوگر ملز ایسوسی ایشن کو طلب کر لیا

سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمٰن کیخلاف نیب انکوائری کی منظوری

ایگزیکٹو بورڈ نے ثاقب سومرو اور دیگر کے خلاف بھی کرپشن ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی، ملزمان پر سرکاری اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق چئیرمین پاکستان سٹیل ملز معین آفتاب شیخ و دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے الزامات ہیں جس سے قومی خزانہ کو 43 کروڑ 44 لاکھ 68 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔

اس کے علاوہ نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر پیپکو رسول خان محسود اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزم پر اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے 12 انکوائریاں کرنے کی منظوری بھی دی جن میں مہران یونیورسٹی جامشورو کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی، لیبر ڈیپارٹمنٹ (سندھ) کے افسران /اہلکاران اور دیگر، میسرز سکائی رومز لمیٹڈ کمپنی اور دیگر، میسرز لکی سیمنٹ فیکٹری، لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران و دیگر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سابق چیف کمشنر انکم ٹیکس حیدر آباد محمد علی ساند و دیگر، چئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن نور محمد جادمانی، رکن سندھ پبلک سروس کمیشن اعجاز علی درانی و دیگر، قائم مقام وی سی سندھ یونیورسٹی (کیمپس بدین) ڈاکٹر صدیق کلہوڑو و دیگر کے خلاف بھی انکوائری شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔

ایگزیکٹو بورڈ نے چیف انجینئر پی ڈبلیو ڈی (ساؤتھ) اکرام الحق، ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر ظفر اقبال، ایکسین پاک پی ڈبلیو ڈی (کراچی) سراج نظام، بورڈ آف ریونیو کراچی کے افسران و دیگر، سابق پرنسپل سیکرٹری ٹو سابق گورنر سندھ ممتاز الرحمان، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اور ڈائریکٹر سکولز ایجوکیشن کراچی عبدالوھاب عباسی و دیگر کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پانچ  انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی جن میں سندھ کول اتھارٹی کے افسران /اہلکاران، میسرز پاک اوسسز و دیگر، سید نصرت شوکت و دیگر جبکہ عمران شیخ سپرنٹنڈنٹ انجینئر آر بی او ڈی سرکل حیدر آباد، محکمہ آبپاشی کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشنز کی منظوری شامل ہے۔

ایگزیکٹو بورڈ نے کریک میرینہ پراجیکٹ کراچی کے مالکان/ منیجرز اور دیگر، سابق چئیرمین این آئی سی ایل ایاز خان نیازی اور دیگر، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کے افسران، میسرز حباء بلڈرز کراچی و دیگر کے خلاف انکوائریاں عدم ثبوت کی بنیاد پر بند کرنے کی منظوری دی۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کراچی کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف تحقیقات اور پلی بارگین کی تکمیل کے بعد معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس موقع پر چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ بڑی مچھلیوں کے خلاف وائٹ کالر کرائمز کے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جار ہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور مضاربہ سیکنڈلز کے ملزمان سے عوام کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کیلئے سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here